سندھ صوفیوں،محبت رواداری اور امن کی دھرتی ہے۔شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور سامی جیسے صوفی شعرا نے ہمیشہ انسانیت، برداشت اور محبت کا درس دیا، مگر افسوس کہ اسی سرزمین پر بعض ایسی فرسودہ اور ظالمانہ رسمیں بھی پروان چڑھتی رہیں جنہوں نے نہ صرف معاشرے کو نقصان پہنچایا بلکہ بے شمار انسانی زندگیاں بھی نگل لیں۔ انہی رسموں میں ایک خطرناک اور المناک رسم ‘‘کاروکاری’’ بھی ہے، جو آج بھی سندھ کے بعض دیہی علاقوں میں مختلف شکلوں میں موجود دکھائی دیتی ہے۔ یہ رسم نہ صرف انسانی حقوق کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات، جدید قانون اور مہذب معاشرتی اصولوں سے بھی مکمل طور پر متصادم ہے۔کاروکاری دراصل ایک قبائلی اور جاگیردارانہ سوچ کی پیداوار ہے۔ اس رسم کے تحت کسی مرد یا عورت پر ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر انہیں ‘‘کارو’’ یا ‘‘کاری’’ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات یہ الزامات بغیر کسی ثبوت، تحقیق یا قانونی کارروائی کے محض شک، دشمنی یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر لگا دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد جرگوں، پنچایتوں یا بااثر افراد کے فیصلوں کے تحت قتل، تشدد یا سماجی بائیکاٹ جیسے غیر انسانی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کئی مرتبہ زمین کے تنازعات، خاندانی دشمنیوں یا مالی مفادات کو بھی کاروکاری کا رنگ دے کر معصوم لوگوں کی جان لے لی جاتی ہے۔ سندھ کے دیہی معاشرے میں جاگیردارانہ اثر و رسوخ اور خوف کی فضا نے اس رسم کو کئی برسوں تک زندہ رکھا۔ بعض علاقوں میں جرگہ سسٹم آج بھی قانون سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے، جہاں فیصلے انصاف کے بجائے طاقت اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ متاثر خواتین ہوتی ہیں، جنہیں اکثر صفائی کا موقع دیے بغیر سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی واقعات میں کم عمر لڑکیاں بھی اس ظلم کا نشانہ بنی ہیں۔اسلام اس حوالے سے نہایت واضح اور سخت مؤقف رکھتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی پر الزام لگانے کے لیے واضح ثبوت اور شرعی تقاضے ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ اسلام کسی فرد، جرگے یا قبیلے کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ خود فیصلہ کرے اور کسی انسان کی جان لے لے۔ قرآنِ پاک میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریمؐ نے انصاف، تحقیق اور انسانی جان کے احترام پر بے حد زور دیا۔ اس لیے کاروکاری جیسی رسم کو مذہب کے نام پر جائز قرار دینا اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ قبائلی روایت اور غیرت کے نام پر اس ظلم کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اسلام میں انصاف صرف عدالت اور قانون کے ذریعے ممکن ہے، ذاتی انتقام یا جرگوں کے ذریعے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے جید علماء بھی بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ کاروکاری جیسی رسم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اگر تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو برصغیر میں انگریز دورِ حکومت میں بھی جاگیردارانہ اور قبائلی نظام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ انگریز حکومت نے کئی علاقوں میں اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے مقامی سرداروں، وڈیروں اور بااثر شخصیات کو طاقت دی تاکہ وہ عوام کو اپنے قابو میں رکھ سکیں۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں کئی ظالمانہ رسمیں خاموشی سے چلتی رہیں۔ اگرچہ برطانوی حکومت نے قانونی ڈھانچہ متعارف کروایا، مگر دیہی سندھ اور قبائلی علاقوں میں جرگہ سسٹم اور روایتی طاقت کو مکمل طور پر ختم نہ کیا جا سکا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ مسئلہ کئی دہائیوں تک موجود رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عدلیہ نے اس مسئلے کو اجاگر کیا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے غیرت کے نام پر قتل اور کاروکاری جیسے جرائم کے خلاف قانون سازی کی۔ مختلف ادوار میں ایسے قوانین متعارف کرائے گئے جن کے تحت غیرت کے نام پر قتل کو سنگین جرم قرار دیا گیا۔ عدالتوں نے بھی واضح کیا کہ جرگوں کے ذریعے انسانی جانوں کے فیصلے غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں۔ تاہم قانون سازی کے باوجود عملی سطح پر اس رسم کا مکمل خاتمہ اب تک ممکن نہیں ہو سکا، جس کی بڑی وجہ کمزور عملدرآمد، سیاسی اثر و رسوخ اور عوام میں شعور کی کمی ہے۔ جدید دور کے تقاضے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ معاشرے کو خوف، انتقام اور فرسودہ روایات سے نکالا جائے۔ آج دنیا انسانی حقوق، خواتین کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور سماجی انصاف کی بات کر رہی ہے، جبکہ کاروکاری جیسی رسمیں معاشرے کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا، تعلیم اور جدید ذرائع ابلاغ نے عوام میں شعور ضرور پیدا کیا ہے، مگر دیہی علاقوں میں اب بھی خوف اور سماجی دباؤ کے باعث لوگ کھل کر اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کر پاتے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف قانون کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور فکری اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ سب سے پہلے دیہی علاقوں میں تعلیم کو فروغ دینا ہوگا۔ خواتین کو قانونی تحفظ، فوری انصاف اور سماجی سہارا فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ جرگہ سسٹم کے نام پر غیر قانونی فیصلوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔ علماء‘ اساتذہ‘ میڈیا اور سماجی رہنماؤں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مساجد، اسکولوں اور میڈیا کے ذریعے عوام میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ اسلام کسی صورت کاروکاری جیسی رسم کی اجازت نہیں دیتا۔ نوجوان نسل کو برداشت، قانون کے احترام اور انسانی حقوق کی تعلیم دینا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں انتقام کے بجائے انصاف کی راہ اپنائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کاروکاری کوئی روایت نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے، جس نے کئی خاندان اجاڑ دیے اور بے شمار معصوم جانیں نگل لیں۔ ایک مہذب، اسلامی اور جمہوری معاشرے میں ایسی رسومات کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔