• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میراماننا ہے کہ انسان کوکچھ ایسی غلطیاں کوتاہیاں جان بوجھ کر کرنی چاہئیں جو سب کی نظروں میں آئیں اور لوگ فوراً اُس غلطی کی نشاندہی کریں۔ لوگ دوسروں کی غلطیاں ڈھونڈکربہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔آپ نے انہیں یہ خوشی ضرور دینی ہے اس سے ایک تو اُنہیں سکون ملے گا، دوسرے وہ جو محدب عدسے کی مدد سے آپ کی غلطیاں تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں اس سے نجات مل جائے گی۔تقریباًبیس سال پہلے میں ایک پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤس میں ہیڈ کے طور پر کام کر رہا تھا۔یہاں ٹی وی ڈرامے تیار کیے جاتے تھے اور مختلف ڈرامہ چینلز کو فروخت کیے جاتے تھے۔ایک چینل کے متعلق مشہورتھا کہ یہاں بے شک بہترین ا سکرپٹ،کاسٹ اور ڈائریکشن والا ڈرامہ دیا جائے کوئی نہ کوئی اعتراض ضرور لگ کر واپس آجاتاہے۔یادرہے کہ ایک دفعہ ایک ڈرامے پر یہ بھی اعتراض لگ گیا کہ باقی سب ٹھیک ہے صرف ہیرو بدل دیں۔ طریقہ کار یہ تھا ڈرامے کا اسکرپٹ اور مکمل طور پر بنی ہوئی پہلی قسط پری ویو کیلئے پیش کی جاتی تھی۔اسی دوران ہمارے ادارے سے ایک ڈرامہ تیار ہوا اور اُسی چینل کو بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ میں نے بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ وہ ڈرامہ دیکھا ۔بظاہراس میں کوئی نقص نہیں تھا۔کہانی اچھی تھی، ایکٹر مشہور تھے، اسکرپٹ مضبوط تھا، ڈائریکشن بھی بہت اچھی تھی اسکے باوجود میں نے جان بوجھ کرجو کاپی چینل کو دینی تھی اُس میں آٹھ جگہ خوفناک غلطیاں ڈال دیں۔مثلاً ایک سین میں آڈیو بلاسٹ کردی، ایک جگہ بلیک اسکرین چھوڑ دی، کہیں آڈیوغائب کردی، کہیں دودو دفعہ سین دہرا دیا۔پوری ٹیم میں کھلبلی مچ گئی کہ اس طرح تو ڈرامہ ریجیکٹ ہوجائے گا۔ میں نے انہیں تسلی دی اور اسی حالت میں ڈرامے کو جمع کرا دیا گیا۔ جواب حسب توقع آیا۔وہی آٹھ غلطیاں نشان زد کی گئیں اور کہا گیا کہ انہیں ٹھیک کرکے ڈرامہ دوبارہ بھیجیں۔ظاہری بات ہے غلطیاں تو خود ڈالی تھیں لہٰذا انہیں ٹھیک کرنا کون سا مشکل تھا۔ ڈرامہ قبول ہوگیا۔ ادارے کے مالک نے مجھ سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا۔میں نے عرض کیا کہ ڈرامہ دیکھنے والی کمیٹی کو غلطیاں ڈھونڈنے میں محنت نہیں کرنی پڑی۔آٹھ غلطیاں نکالنے پر ضرور ان کاسینہ فخرسے پھول گیا ہوگا۔ اگر ہم یہ نہ کرتے تو انہوں نے اچھے بھلے ڈرامے میں بلاوجہ کوئی ایسی پخ ڈال دینی تھی کہ شاید سارا ڈرامہ دوبارہ سے شوٹ کرنا پڑتا۔

٭ ٭ ٭

میرے ایک بہت اچھے مسیحی دوست ہیں آصف اینگلو عقیل صاحب۔انتہائی اسکالربندے ہیں، آدھی سے زیادہ دنیا گھوم چکے ہیں۔ یو این او میں بھی خطاب فرما چکے ہیں اور اپنی کمیونٹی کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں پتا چلا کہ اقلیتوں کے حقوق کیلئے حکومتی سطح پر کوئی کمیٹی قائم کی جارہی ہے۔میں نے اُن سے کہا کہ آپ انتہائی پڑھے لکھے اور اپنی کمیونٹی کے حوالے سے واقفانِ حال میں شمار ہوتے ہیں آپ کیوں نہیں اس کمیٹی میں شامل بلکہ آپ کو تو بطور چیئرمین یہاں ہونا چاہیے۔انہوں نے سرجھٹکااور بےپروائی سے کہنے لگے کہ مجھ سے اس طرح کے کام نہیں ہوتے کہ حکومتوں کو خوش رکھنے کیلئے ہاں میں ہاں ملاتا رہوں۔ ان کی بات تو ٹھیک ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یہی رویہ ہے جسکی وجہ سے نااہل لوگ اہم سیٹوں پر براجمان ہوجاتے ہیں۔جب اہل لوگ معذرت کرکے پیچھے ہٹ جائیں گے تو پھرمیدان کھلا ہے، کوئی بھی آگے آسکتاہے ۔میں سمجھتاہوں کہ اہل لوگ جب عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں تو بے شک انہیں حکومت کی حمایت ہی کیوں نہ کرنی پڑے وہ اس میں سے بھی درست بات کرنے کا کوئی نہ کوئی رستہ نکال لیتے ہیں۔نااہل بندہ تو سیدھی سیدھی خوشامد پر اتر آتاہے کیونکہ اس کے علاوہ اسے کچھ نہیں آتا۔جب کسی کو اس کے متعلقہ کام کے حوالے سے کسی سیٹ کی آفر ہو تو ضرور قبول کرنی چاہیے اور ثابت کرنا چاہیے کہ اُس کے آنے سے کیا مثبت تبدیلی آئی ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ جوبندہ جس عہدے کیلئے اہل ہوتاہے اگر وہ اسے قبول کرلے تو اس کے اپنے پیٹی بھائی اُس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔

٭ ٭ ٭

آپ سب کیلئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ گرمیاں ختم ہونے والی ہیں بس چارماہ رہ گئے ہیں۔پھرموسم تبدیل ہوگا، ہوا میں خنکی ہوگی ،بجلی کے بھاری بلوں سے نجات مل جائیگی اور چہرے خوشگوار ہوجائیں گے۔اس دوران کیاہوگا اس بارے میں آپ نے بالکل نہیں سوچنا بقول شاعر’آنے والی خوشیوں کا احساس تو ہے...ہر انسان کے پاس یہی اِک آس توہے‘۔ اصل دُکھ خوشیوں کے جانے کا ہوتاہے، آنے والی خوشیوں کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔اس انتظار میں جو مزا ہے ، کیا کہنے۔چنددن بعدساون شروع ہوجائے گا۔رومنٹک قسم کی بارشیں ہوں گی، جل تھل ہوگا، پکوڑے سموسے کھائے جائیں گے۔ بازاروں میں پڑے روم کولر کی جگہ گیزر نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔پھردھیرے دھیرے رُت بدلے گی اور سردیاں جھوم جھوم کر آئیں گے۔ جیسے دور سے ٹرین کی لائٹ نظر آتی ہے اسی طرح غور سے دیکھئے.... وہ سامنے دور سے ہلکی ہلکی سردیاں آتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔خوشیوں کا ذکر بھی خوشیاں پیدا کرتاہے۔گولی ماریں گرمی ، حبس اورپسینے کی باتوں کو۔آنے والے خوشنماموسم کو محسوس کریں جو دھیرے دھیرے بازو پھیلائے آرہا ہے۔ سوچناشروع کریں گے تو محسوس بھی ہونا شروع ہوجائیگا۔نہیں یقین تو کسی گرمی بھری سخت دوپہر میں یوٹیوب پر بارش اور بادلوں کی گرج والی وڈیو چلا کر اس کی آواز سنئے۔تھوڑی دیر بعد آپ کو لگنے لگے گا کہ باہرموسلادھار بارش ہورہی ہے۔

تازہ ترین