ناول کے بادشاہ گبرئیل گارشیا مارکيز نے کہا تھا کہ اگر کوئی سیاسی نکتہ بیان کرنا چاہتے ہو تو ایک اچھی کتاب لکھو ۔ دلاور چوہدری کے 77 کالموں پر مشتمل کتاب ہاتھوں میں ہے اور گارشیا مارکيز کے الفاظ کانوں میں گونج رہے ہیں کہ مارکيز نے ایسی ہی کتاب تحریر کرنے کی بابت اپنا نقطہ نظر بیان کیا تھا ۔ دلاور چوہدری کی کتاب ’’خواب لئے پھرتا ہوں ‘‘ میں ہر اس شخص کا خواب نظر آئیگا جو خواب دیکھنے کی جرات رکھتا ہے اور پھر تعبیر کے حصول کیلئے خواب کا نتیجہ بھی بیان کر دیتا ہے ۔ انکی تحریر جب بھی پڑھی یا اب یہ کالموں کا مجموعہ سامنے رکھا تو ہمیشہ انکی شخصیت کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ سامنے یہ جیتا جاگتا انسان دراصل بولتی لائبریری بن چکا ہے ۔ ان کی تحریر ہو یا گفتگو بات کتاب کے حوالے سے شروع ہوتی ہے اور کتاب پر ہی ختم ہوتی ہے ۔ ’ خواب لئے پھرتا ہوں ‘ میں موضوع کوئی بھی ہو مگر اس پر رائے زنی عامیانہ یا صرف صفحہ پر صفحہ تحریر کرنے کی غرض سے نہیں ہوتی ہے بلکہ پورا مدعا بیان کرنا ان کا خاصا ہے ۔ اہل علم میں ایک رویہ ضرور پنپ جاتا ہے کہ بس’’ مستند ہے میرا فرمایا ہوا ‘‘ مگر چوہدری صاحب کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی علمی زعم سے کوسوں دور ہیں ، آپ جتنا مرضی اختلاف کریں جو چاہے نقطہ نظر پیش کریں ان کے ماتھے پر شکن ابھرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ، آپ کی بات سننے اور اپنا مؤقف بیان کرنے کیلئے وہ تیار ہوتے ہیں اگر کسی کو آج کے دور کے حالات پر بے لاگ تبصرہ درکار ہے تو پھر ’’خواب لئے پھرتا ہوں‘‘ اس کے لئے لازم ہے جیسے انتخابات جمہوری عمل کا ایک لازمی حصہ ہیں اور اس وجہ سے ہی گلگت بلتستان میں انتخابات کا زور و شور سے انعقاد ہو رہا ہے ۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان آج بھی اپنے ان آئینی حقوق سے محروم ہے جو اس کا مکمل طور پر حق ہیں۔ نواز شریف نے اکتوبر 2015میں سرتاج عزیز مرحوم کے ذمہ یہ کام لگایا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کے تمام آئینی حقوق کو یقینی بنانے کیلئے جامع لائحہ عمل تیار کریں ۔ اس کمیٹی میں اس وقت کے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان کی نمائندگی کر رہے تھے اور انہوں نے حق نمائندگی ادا بھی کر دیا تھا ۔ حافظ حفیظ الرحمان کی مشاورت سے مارچ 2017 میں اس کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کرکے 93 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کردی ۔ حافظ حفیظ الرحمان نے سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ میں یہ سفارش شامل کرا دی تھی کہ گلگت بلتستان کو عارضی صوبے کا خصوصی درجہ دیا جائے ، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 51 اور 59 میں تراميم کرکے گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نشستیں دی جائیں ۔ ان آئینی امور میں تراميم کیلئے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کیلئے مارچ 2018 کے سینیٹ انتخابات تک انتظار کرنا تھا کہ اس میں مسلم لیگ ن کو مطلوبہ اکثریت ملنا یقینی تھا مگر پھر جولائی 2017 آیا اور منتخب وزیر اعظم کو سازش کا شکار کر دیا گیا ، 2018 کے سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو بطور جماعت حصہ ہی نہیں لینے دیا گیا اور سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت ،جو گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کو ادا کردیتی ،سے مسلم لیگ ن کو محروم کر دیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے اگلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں گورنمنٹ گلگت بلتستان آرڈر 2018 جاری ہوا مگر جولائی 2018 میں اس پر بھی ہتھوڑا برسادیا گیا اگر نواز شریف حکومت 2017 میں سازش سے ختم نہ کی جاتی اور سینیٹ کے انتخابات شفاف ہونے دیے جاتے تو حافظ حفیظ الرحمان اپنے لوگوں کے آئینی معاملات کب کے حل کرا چکے ہوتے ۔ جیسے وہ جی بی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، اسکردو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ، گلگت سیف سٹی ، یونیورسٹی آف بلتستان اسکردو، کینسر اسپتال گلگت ، گلگت کارڈیک اسپتال ، گلگت اسکردو موٹر وے اور نلتر ایکسپریس وے جیسے منصوبے دے کر عوام کے بہت سارے مسائل حل کر چکے ہیں ۔ مسائلِ پاکستان کے حل کرنے کی غرض سے اور بھی دروازے کھلے ہوئے ہیں جیسے کہ یورپی یونین میں پاکستان کی ایک توانا آواز اٹلی کی صورت میں موجود ہے ۔ ابھی گزشتہ رات ہی اٹلی کی سفیر میریلینا آرملین اور مسٹر اگستوکے منعقد ہ پروگرام میں موجود تھا تو مجھے یاد آیا کہ اٹلی وہ ملک ہے جس نے پاکستان کی بحری اہمیت کو بالخصوص اس دور میں بھی سمجھا جب انڈیا کا پروپيگنڈاپاکستان کے خلاف عروج پر تھا اور اس وقت بھی اٹلی کی بحریہ کے جہاز کراچی آئے تھے، یہ انڈیا کے سندور اجڑنے سے قبل کی بات ہے۔ بالکل اسی طرح سے جب انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا تو اس کو روکنے کیلئے دونوں ممالک نے باہمی اشتراک پر مشتمل پاک اٹلی کافی کلب قائم کیا تھا ۔ پاکستانیوں کی تو ایک قابل لحاظ تعداد ادھر موجود ہی ہے ، یہ جو بار بار جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے آگے سوالیہ نشان لگ جاتا ہے یہ اٹلی کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے سے مستقل جواب پا سکتا ہے بس شرط صحیح طرح سے اس کو استعمال کرنے کی ہے۔