• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماسکو میں گزشتہ ہفتے روس اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جس دفاعی معاہدے کی خبریں میڈیا میں ہر سطح پر گرم ہیں، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں اس پر کسی تبصرے سے گریز کرتے ہوئے صراحت کی ہے کہ فی الوقت اس سلسلے میں کوئی تفصیلات دستیاب نہیں جبکہ ان کے سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے میں کسی ردعمل کا اظہار کیا جاسکے گا۔ تاہم عالمی ذرائع ابلاغ نے تادم تحریر اس بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں ان کے مطابق ماسکو میں 26 تا 29 مئی منعقد ہونے والے انٹرنیشنل سیکورٹی فورم کے دوران طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد اور روسی سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو نے عسکری اور تکنیکی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو فریقین کے باہمی تعلقات کو سیاسی ہم آہنگی سے عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کی عکاسی کرتا ہے لیکن طے پانے والی شقوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔تاہم افغان وزیر دفاع نے وطن واپسی پر جو کچھ بتایا اس سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان حکمرانوں نے اس معاہدے کی ضرورت پاکستان کے فضائی حملوں کی وجہ سے محسوس کی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کابل حکومت پاکستان کو مستقبل میں افغان سرزمین پر فضائی حملوںسے باز رکھنے کیلئے کوشاں ہے۔افغان وزارت دفاع کے ایک ذریعے کے بقول یہ معاہدہ ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت طالبان حکومت روسی عسکری سازوسامان کی خریداری کے سودے کر سکے گی جبکہ تکنیکی تعاون اور تربیتی پروگرام بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ ذریعے نے واضح کیا کہ فضائی دفاعی نظام کی فوری حوالگی کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں وسیع تر تعاون کیلئے راہ ہموار کرے گا۔

روس دنیا کا واحد ملک ہے جو طالبان حکومت کو باضابطہ طور تسلیم کرچکا ہے تاہم ماسکو افغانستان کے دہشت گرد تنظیموں اور منشیات کے کاروبار کا گڑھ ہونے کا بھی مکمل ادراک رکھتاہے اور صورت حال کی بہتری کا خواہاں ہے۔وہ اس موقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ اس کے روابط دہشت گردی کے خاتمے اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے سے جڑے سکیورٹی خدشات کے تابع ہیں ۔ 27 مئی کو روس افغان معاہدے پر دستخط ہوئے اور اسی دن روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف کا یہ انکشاف بھی منظر عام پر آیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں جس سے نمٹنے کیلئے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹوں کے برعکس افغان وزیر دفاع نے افغانستان واپسی پرروس کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے بارے میں واضح کیا ہے کہ یہ صرف روسی فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال کا معاہدہ ہے جو اس وقت افغانستان کے پاس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ فوجی تکنیکی معاہدہ ہے جس کو ان معاملات کے ماہرین سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی دفاعی یا سکیورٹی معاہدہ نہیں، جس سے کسی کو تشویش ہو۔ ‘‘ لیکن بہرحال پاکستان کیلئے یہ ایک توجہ طلب معاملہ ہے ۔ روس اور پاکستان کے تعلقات ماضی کی نسبت اگرچہ پچھلے چند برسوں سے نہایت خوشگوار ہیں جس کی بنا پر پیوٹن حکومت کی جانب سے بظاہر ایسا کوئی خدشہ نہیں کہ وہ پاکستان کی قیمت پر افغانستان سے روابط مستحکم کرے گی تاہم معاہدے کے حوالے سے تفصیلات جاننے اور اپنا موقف واضح کرنے کیلئے اسلام آباد کاروس سے فوری رابطہ ضروری نظر آتا ہے ۔

فی الحقیقت روس خطے میں امن واستحکام کا انتہائی خواہشمندہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک افغان تعلقات کشیدگی کے خاتمے کیلئے ماضی میں بھی وہ کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتا رہا ہے اور ماسکو میں ہونے والے انٹرنیشنل سیکورٹی فورم کے دوران بھی روس کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری الیگزینڈر وینڈیکٹوف نے وزیراعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے نائب مشیر آزاد سجاد خان سے ملاقات میں پاکستان اور طالبان کے درمیان تنازعات کے حل میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ وینڈیکٹوف نے پاکستان کو خطے میں روس کا ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ ماسکو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر صورتحال کو معمول پر دیکھنا چاہتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور سیاسی اور سفارتی ذرائع سے اپنے اختلافات کو حل کریں گے لہٰذا حکومت پاکستان مناسب سمجھے تو روس اس عمل میں جامع مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ حکمت و تدبر کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت روس کی اس پیشکش پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنا یہ موقف ثبوت و شواہد کے ساتھ روسی حکام کے سامنے پیش کرے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ افغانستان سے اسپانسر کی جانیوالی دہشت گرد کارروائیوں کا لامتناہی سلسلہ ہے۔افغان سرزمین پردہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے میں کابل کی ناکامی کے سبب اسلام آباد کو مجبوراً دہشت گردوں کے ان مراکز پر فضائی حملے کرنے پڑے۔ قطر، ترکی اور چین کے زیراہتمام پاک افغان مذاکرات میں کابل حکام نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیے جانے کی زبانی یقین دہانیاں ضرور کرائیں لیکن عملی نتیجہ صفر رہا۔ تاہم روس اگر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے پاک افغان مذاکرات کو اس حوالے سے نتیجہ خیز بناسکے تو پاکستان اس کا یقینا خیرمقدم کرے گا کیونکہ دہشت گردی سے نجات پاکستان کی عین ضرورت ہے۔پاکستان کا یہ موقف حقائق کے عین مطابق ہے اور اس کا واضح اظہار مذاکرات کیلئے فضا کو سازگار بنانے کے علاوہ اس منفی تاثر کو ختم کرنے کا ذریعہ بھی بنے گا کہ پاک افغان تعلقات کی خرابی کا سبب پاکستان کا جارحانہ رویہ ہے۔

تازہ ترین