• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچے میں امن اور سندھ کے با اثر طبقے کی ذمہ داریاں

سندھ کا کچا علاقہ کئی دہائیوں سے جرائم، اغوا برائے تاوان، قبائلی تنازعات اور ڈاکو راج کی وجہ سے ریاست اور عوام دونوں کے لیے ایک چیلنج بنا رہا ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے پھیلے ہوئے دشوار گزار علاقے جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھے جاتے تھے جہاں ریاستی رٹ کو بارہا چیلنج کیا جاتا رہا۔ تاہم حالیہ برسوں میں صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سندھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلسل کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف متعدد جرائم پیشہ ٹھکانے تباہ کیے بلکہ کئی خطرناک ڈاکوؤں کو گرفتار یا ہلاک کیا جبکہ بعض گروہوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا بھی اعلان کیا۔یہ کامیابیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اگر ریاستی عزم مضبوط ہو تو کچے جیسے پیچیدہ علاقوں میں بھی قانون کی حکمرانی قائم کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے کچے کے علاقوں کو اتنے طویل عرصے تک بدامنی کا مرکز بنائے رکھا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے سندھ کے روایتی سماجی اور سیاسی ڈھانچے کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں عشروں سے سرداروں اور وڈیروں کا اثر و رسوخ موجود رہا ہے۔ یہ اثر صرف زمینوں اور زراعت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور بعض اوقات انتظامی معاملات تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ بہت سے علاقوں میں عوامی مسائل کے حل، تنازعات کے تصفیے اور سیاسی فیصلوں میں مقامی بااثر شخصیات کا کردار ریاستی اداروں سے بھی زیادہ نمایاں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچے کی صورتحال کا تجزیہ کرتے وقت ان طبقات کی ذمہ داریوں کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سندھ کے تمام سردار یا وڈیرے کچے کی بدامنی کے ذمہ دار تھے، کیونکہ کئی بااثر خاندانوں نے اپنے علاقوں میں ترقی، تعلیم اور امن کے فروغ کیلئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض علاقوں میں طاقت کے روایتی مراکز نے ایسے ماحول کو جنم دیا جہاں قانون کی حکمرانی کمزور اور شخصی اثر و رسوخ زیادہ مضبوط رہا۔ جب ریاستی اداروں کے بجائے افراد کی طاقت غالب آ جائے تو جرائم پیشہ عناصر کیلئے جگہ پیدا ہو جاتی ہے۔

کچے کے مختلف علاقوں میں زمینوں کے تنازعات، قبائلی دشمنیاں اور سیاسی رقابتیں طویل عرصے سے موجود رہی ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق ان تنازعات نے اسلحے کے پھیلاؤ اور مسلح گروہوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ جب طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے غیر ریاستی عناصر استعمال کیے جائیں تو بالآخر یہی عناصر ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ یہی صورتحال کئی علاقوں میں دیکھنے میں آئی جہاں جرائم پیشہ گروہ وقت کے ساتھ زیادہ منظم اور طاقتور ہوتے گئے۔تاہم گزشتہ چند برسوں میں سندھ پولیس نے جس جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ کچے کے دشوار گزار علاقوں میں آپریشنز کسی عام کارروائی کے مترادف نہیں ہوتے۔ وسیع رقبہ، دشوار راستے، جدید اسلحہ سے لیس جرائم پیشہ گروہ اور مقامی جغرافیہ ان کارروائیوں کو انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس افسران اور اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ متعدد جرائم پیشہ ٹھکانے مسمار کیے گئے، اغوا کار گروہوں کی کمر توڑی گئی اور کئی مطلوب ملزمان قانون کے شکنجے میں آئے۔یہ بھی ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ بعض ڈاکوؤں نے ریاستی رٹ کو تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔ اگرچہ یہ تعداد شاید مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیے کافی نہ ہو، لیکن یہ اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ ریاستی دباؤ اور مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم پیشہ عناصر کی قوت کمزور ہو رہی ہے۔ ایسے عناصر کی بحالی اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے بھی جامع حکمت عملی درکار ہے۔اس تمام صورتحال میں سندھ کے سرداروں، وڈیروں اور دیگر بااثر طبقات کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر وہ واقعی اپنے علاقوں میں امن اور ترقی چاہتے ہیں تو انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہوگا۔ جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی، خاموش حمایت یا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر چشم پوشی کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ امن صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ریاست کی عملداری کو ہر سطح پر تسلیم کیا جائے۔کچے کے مسئلے کا ایک اہم پہلو معاشی اور سماجی پسماندگی بھی ہے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اسلئے آپریشنز کیساتھ ساتھ ترقیاتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ اسکول، اسپتال، سڑکیں، روزگار کے مواقع اور جدید زرعی سہولیات کچے کے عوام کو جرائم کے بجائے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔

آج سندھ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ریاستی اداروں نے کچے میں امن کے قیام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے اور دوسری طرف معاشرے کے مختلف طبقات کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک نئے اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔ سندھ پولیس کی قربانیوں اور کامیابیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سماجی اور سیاسی عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جنہوں نے برسوں تک بدامنی کو پنپنے کا موقع فراہم کیا۔اگر ریاستی عزم برقرار رہا، بااثر طبقات اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہے اور ترقیاتی عمل کو تیز کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب سندھ کا کچا علاقہ ڈاکو راج کی علامت کے بجائے امن، ترقی اور خوشحالی کی مثال بن جائے گا۔ یہی سندھ کے عوام کی خواہش ہے اور یہی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی ضرورت بھی۔

تازہ ترین