وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں 55 کے قریب تجویز کردہ ترامیم غیر سیاسی نوعیت کی ہیں۔
چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا۔
کریمنل پروسیجر ترمیمی بل 2025ء پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انگریز قانون ضابطہ فوجداری بنا کر چلا گیا، آج ملک بنے 80 سال ہوچکے، پرانے قوانین برے نہیں ہوتے اور بہت سارے قوانین آج بھی آؤٹ آف فیشن نہیں ہوئے، سی آر پی سی کی کچھ شقیں ایسی ہیں جنہیں وقت کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر 10سال بعد فوجداری قوانین کا جائزہ لے کر تبدیلیاں کی جاتی ہیں، اب ویڈیو ریکارڈنگ، سی سی ٹی وی کیمرے، ایس ایم ایس، واٹس ایپ جیسی نئی چیزیں آچکیں، مقدمات میں واٹس ایپ میسج پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، قانونی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا فائدہ نہیں ہوتا، آن لائن ایف آئی آر کا آغاز تو ہو چکا لیکن اسے ٹرانسمٹ کرنے کا طریقہ کار دیکھنا ہے، ماضی میں 1972ء اور 1991ء میں بڑی قانونی اصلاحات ہوئیں، اس کے بعد کوئی سنجیدہ کام نہیں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں 55 کے قریب ترامیم تجویز کی گئی ہیں جو خالصتاً غیر سیاسی نوعیت کی ہیں، ترامیم کا مقصد یقینی بنانا ہے مجرم سزا سے نہ بچ سکے، مدعی کی داد رسی ہوسکے، ہمارے مروجہ قوانین جرم کرنے والوں کو پوری سہولت دیتے ہیں، مدعی کے لیے کوئی سہولت نہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نے کہا کہ تفتیش، قوانین کی خامیوں سے سزا کا تناسب 10 سے 15 فیصد کے درمیان ہے، پولیس کی کپیسٹی کے ایشوز ہیں، تفتیش اتنی خراب ہوتی ہے کہ جج کے پاس ملزم کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا، فوجداری کے ماہر وکلاء کے ساتھ بیٹھ کر اس پیکج پر 16 سے 17 ورکنگ سیشنز کیے، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسلز اور جوڈیشل افسران کی تحریری تجاویز کو بل کی شکل میں لے کر آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی ممبران بجٹ کے دوران یا بجٹ کے بعد روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ان ترامیم کا جائزہ لیں۔
کمیٹی نے بل کو ایک ہفتے کے لیے موخر کر دیا، آئندہ ہفتے منگل، بدھ اور جمعرات کو اجلاس میں صرف کریمنل پروسیجر حکومتی بل کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔