قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی۔
اجلا سکے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی اور بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی کا حجم 1000ارب روپے رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ای سی نے پی ایس ڈی پی کی منظوری دیدی ہے، اجلاس میں شرکاء کو معاشی ترقی کےلیے برآمدات بڑھانے پر بریفنگ دی گئی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2018ء میں پی ایس ڈی پی جی ڈی پی کا 2 اعشاریہ 6 فیصد تھا، جو 0 اعشاریہ 6 فیصد پر ا چکا، آیندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف4 فیصد رکھا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہیومین ریسورس کی ترقی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، پاکستان میں ڈویلپمنٹ ایمرجنسی کی ضرورت ہے، 74 فیصد ریونیو قرص ادائیگی پر جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا بڑا چیلنج ایکسٹرنل سیکٹر ہے، بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کےلیے بیوروکریسی کو تبدیل کرنا ہو گا، یہ بیوروکریسی معاشی ترقی نہیں امن و امان اور ٹیکس وصولی والی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس سہ ماہی بنیادوں پر ہونا چاہیئے، کونسل نے وزارت منصوبہ بندی کی تجویز کی منطوری دی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی ترقیاتی بجٹ 3669 ارب روپے منطور کیا گیا، وفاق کا ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے ہو گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 2218 ارب روپے مختص کرنے کی منطوری دی گئی ہے، فیدرل انٹر پرائز کا ترقیاتی بجٹ451 ارب روپے ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال زرعی شعبے کی گروتھ کا ہدف 3 اعشاریہ 6 فیصد مقرر اور صنعتی شعبے کی گروتھ کا ہدف 4 اعشاریہ 5فیصد منظور کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ خدمات کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4 اعشاریہ 2 فیصد منظور کیا گیا جبکہ افراط زر کا ہدف 8 اعشاریہ 2 فیصد رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی واٹر سیکورٹی اولین ترجیح ہے،1000 ارب روپے کے پی ایس ڈی پی میں داخلہ اور دفاع کے سوا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہو گا۔
دوران گفتگو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی اقتصادی سروے کل پیش کیا جائے گا۔