چین پاکستان کے سفارتی تعلقات کو75برس بیت گئے اور لاہور میں نئے تعينات ہونیوالے چینی قونصل جنرل سن يان کو لاہور کی فضا میں آئے تین ماہ گزر گئے مگر اس تین ماہ کے عرصے میں وہ کہیں تشریف لیکر نہیں گئے ، انکی میرے گھر آمد تو متوقع تھی مگر فیصلہ یہ ہوا کہ اس آمد کو ایک تقریب میں ڈھال لیا جائے اور کچھ دانشور حضرات بھی رونق محفل ہوں، لہٰذا تقریب ان گزشتہ75 برسوں کو یاد کرتے ہوئے اگلے زمانے کی تصویر کشی کرنے کے حوالے سے اپنے گھر پر منعقد کی ۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے خوش قسمتی کا حامل رہا ہوں کہ میری دعوت پر دانشور حضرات شرف قبولیت بخشتے ہیں اور ایسے ایسے نابغہ روزگار تشریف لاتے ہیں کہ بس ان کا نام ہی کافی ہوتا ہے۔ سینیٹر پرویز رشید ، مجیب الرحمن شامی ، سلیم بخاری ، سہیل وڑائچ ، حفیظ اللہ نیازی ، پرویز بشیر، نوید چودھری ، صفدر علی خان،ڈاکٹر افتخار الحق اور اسی قبیل کے ستاروں کی ایک کہکشاں تھی ۔ صحافی برادری سے گوہر بٹ ، جاوید فاروقی ، لقمان شیخ ،زبیر بشیر ، نعیم بٹ ، حسن عباس، فیضان بنگش ، خاور عباس ،یاسر حبیب خان ، تصور شہزاد اور عاصم موجودتھے ، بس الطاف حسن قریشی مرحوم کی کمی شدت سےمحسوس کی، وہ پیرانہ سالی میں بھی ضرور تشریف لاتےتھےالبتہ انکی تصویر انکے صاحبزادے کامران الطاف یادوں کیساتھ موجود تھے اور الطاف حسن قریشی مرحوم کے دوست جاوید نواز بھی موجود تھے۔ نوجوان سیاستدانوں کی نمائندگی اراکین پنجاب اسمبلی میاں عمران جاوید اور رانا راشد منہاس کر رہے تھے، سیکرٹری ریونیو پنجاب شفقت اللہ مشتاق کی اپنی جگمگاہٹ تھی۔ ترکی کے اخبارات سے منسلک صحافی حسان نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا جبکہ سپریم کورٹ بار ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن امجد شیرازی ایڈووکیٹ نے اپنی پر سوز آواز میں نعت خوانی فرمائی ۔ اس امر میں تو کسی کلام کی گنجائش نہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی ماہ و سال کا سفر طے کرتے ہوئے بس مضبوط سے مضبوط تر ہی ہوئی ہیں ورنہ ممالک کا تعلقات میں اتار چڑھاؤ آنا کسی اچنبھے کی بات نہیں مگر یہاںایسی کوئی انہونی کبھی نہیں ہوئی ۔چینی قونصل جنرل سے شرکائے محفل کاہر موضوع پر اظہار خیال ہوا ۔ چینی قونصل جنرل سن يان نے دونوں ممالک کے تعلقات کے سلسلے میں چین پاکستان سیکورٹی پارٹنر شپ کے حوالے سے بات کی اور دونوں برادر ممالک کے مابين فوجی تعاون ، انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے امور پر تعاون اور اسکے اثرات پر گفتگو کی ، چین پاکستان کی خود مختاری ، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کیخلاف نبرد آزما پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کی پاک چین تعلقات پر جاری 74 صفحات پر مشتمل رپورٹ کا بھی قونصل جنرل سن يان نے ذکر کیا ۔ پاکستان کے ساتھ چین کی سٹرٹیجک شراکت داری سے آگے بڑھ کر سی پیک کا آغاز کیا گیا تھا جو صدر شی کے مشترکہ مستقبل کی سوچ کا آئینہ دار ہے اور اس موقع پر چینی قونصل جنرل نے درست کہا کہ ان سی پیک کے منصوبوں کی ابتدا کا بہت حصہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے اور اس پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔
یہ بات ہمارے ذہنوں میں راسخ رہنی چاہئے کہ سفارتکاری کی دنیا میں مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں اور ہر ایک دوسرے سے جو جو کھڑکی کھلتی ہو اس کو بہتر سمجھا جاتا ہے پاک چین تعلقات کو امریکہ بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ عید کے موقع پر مجھے امریکی قائم مقام سفیر نتلی بیکر کا عید مبارک کا میسج آیا تو ان سے اگلی ملاقات کے حوالے سے میسجز کا تبادلہ ہوا ۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ چار تاریخ کوآ رہے ہیں ؟ میں اس تقریب میں پہلی بار پانچ جولائی انیس سو ننانوے کو اس وقت کے امریکی سفیر وليم بی مائیلم کے گھر مدعو کیا گیا تھا اور اس تقریب کے مہمان خصوصی اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف تھے اور اس وقت نواز شریف پاکستان کو کارگل کی مصیبت سے نکالنے کیلئے واشنگٹن گئے تھے مگر اس تقریب کے دوران جنرل معین الدین حیدر کی گفتگو صاف چغلی کھا رہی تھی کہ دال پوری کی پوری کالی ہو چکی ہے اور سازش تیارہے پھر اسکے بعد بس کورونا کے دنوں میں اس تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا یا پھر کچھ امریکی سفیر اس تقریب کو فروری میں پریذیڈنٹ ڈے پر لے گئے تھے ، میں اس دوران جب کبھی پاکستان میں موجود ہوااس تقریب میں ضرور شرکت کی ، میں نے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کو بتایا کہ مجھے ابھی تک دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ، حالانکہ عید کا دن تھا مگر پھر بھی انہوں نے اپنے سٹاف میں نازش صاحبہ کو ہدایت دی اور مجھے اسی روز دعوت نامہ موصول ہو گیا اور بعد میں بھی امریکی سفارتخانہ مستقل رابطہ میں رہا۔ نیٹلی بیکر بہت متحرک سفارتکارہیں اور سفارتی زبان میں پبلک ڈپلومیسی پر عمل پیرا محسوس ہوتی ہیں۔ جوہمیشہ ممالک کے مضبوط تعلقات کا باعث ہوتا ہے۔
اس تقریب میں جب آصف زرداری صدر بنے تو وہ تشریف لانے لگے اور اب جب سے شہباز شریف وزیر اعظم ہیں تو ضرور شرکت کرتے ہیں کیونکہ پاکستان کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ بيک وقت چین اور امریکہ سے بہتر سے بہتر تعلقات کو برقرار رکھے ۔ امریکی سفارتخانے کے پولیٹیکل قونصلر ٹیری سینئر سفارتکار ہیں کوئی بیس برس قبل بطور پولیٹیکل افسر اسلام آباد میں انکی پہلی بار تعیناتی ہوئی تھی، پھر وہ پولیٹیکل قونصلر کے طور پر آئے اور اب تیسری بار اسلام آباد تعینات ہوئے ہیں۔ معاملات چین کے ساتھ ہوں یا امریکہ کے حل تو بہرحال سفارتکاری ہی تلاش کرتی ہے کیونکہ سفارتکاری ہی امن کا واحد راستہ ہے۔