• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں دفاع اور خارجہ امور کے حوالے سے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ملک کی معاشی حالت کے حوالے سے اندیشے اور تحفظات اب بھی برقرار ہیں۔ اس حوالے سے اگر رواں سال کا گزشتہ سال سے تقابل کیا جائے تو یہ بات حوصلہ افزا قرار دی جا سکتی ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو2. 68 فیصد سے بڑھ کر3 .71فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔ اسی طرح مئی 2026 میں تجارتی خسارہ نمایاں طور پر کم ہو کر 2.6ارب ڈالر پر آ گیا ہے جو مئی 2025 کے مقابلے میں 39.4 فیصد اور گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں13.7فیصد کم ہے۔ تجارتی توازن میں یہ بہتری درآمدات میں کمی کرکے ممکن بنائی گئی جسکا اثر برآمدات پر بھی پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران برآمدات کا مجموعی حجم27.904 ارب ڈالر رہا جبکہ اس سے پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے دوران برآمدات کا مجموعی حجم 29.563ارب ڈالرتھا۔جسکا اثر برآمدات پر بھی پڑا ۔ان حالات میں اگر ایک طرف برآمدات بڑھا کر ترقی کی رفتار کو تیز کیا جاتا ہے تو تجارتی خسارہ قابو سے باہر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف ترقی کی شرح تین سے چار فیصد کے درمیان رہنے کی وجہ سے ملک میں معاشی سرگرمیاں انجماد کا شکار ہیں جس سے بیروزگاری اور غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بحران کا مقابلہ کرنےکیلئے برآمدات بڑھانے اور ملک میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال حکومت نے اڑان پاکستان پروگرام کے تحت پانچ سالہ اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور زرعی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک بڑھاناہے۔ علاوہ ازیں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمت میں کمی لانےکیلئے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 10 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان اہداف کے حوالے سے حکومت نے کیا کامیابی حاصل کی ہے یا اس سلسلے میں جو اقدامات کئے گئے ہیں ان کے نتائج کے حوالے سے تاحال کوئی معلومات میسر نہیں ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس سلسلے میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن انڈسٹری پر توجہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ رواں مالی سال میں آئی ٹی سروسز کی ایکسپورٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے پاس سروسز سیکٹر بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال آنیوالے سیلاب کے باعث زرعی شعبے کے نقصانات اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کےباعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیںنمایاں اضافے نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جولائی 2025 سے مئی 2026 کے عرصے میں پاکستان میں افراط زر کی شرح 6.69فیصد سے بڑھ کر 11.66فیصد ہو چکی ہے جسکی وجہ سے توانائی، نقل و حمل اور خوراک کے ضروری اخراجات بڑھ کر 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔اسلئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت کی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کو اسی طرح برقرار رکھا جاتا ہے تو اس سے معاشی بہتری کا ہدف حاصل کرنے کے حوالے سے کارکردگی مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ تاہم ان مثبت اِشاروں کے باوجود ترقی کی رفتار کو بڑھانےکیلئے ادارہ جاتی اصلاحات کیساتھ ساتھ اہم صنعتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری لانے اور برآمدی منڈیوں میں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقتی پوزیشن کو بہتر بنانےکیلئےمزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے صنعتی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ افرادی قوت کو جدید معیشت کیلئے درکار مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کا معیار بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جہاں تربیت فراہم کرنیوالے اداروں کی تعداد بڑھانا ضروری ہے وہیں طلبہ کیلئے مڈل یا میٹرک کے بعد کسی جدید ہنر کو سیکھنا لازمی قرار دے کر تھوڑے عرصے میں بڑی تبدیلی لانا ممکن ہے۔ علاوہ ازیں اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی حوصلہ افزائی کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی بینکنگ اور قرضوں تک رسائی آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے کام کو زیادہ بہتر طور پر توسیع دے کر زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔ اسی طرح بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنےکیلئے گورننس کو بہتر بنانا اور بدعنوانی سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔ سرکاری امور کی انجام دہی میں شفافیت سے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی جہاں کاروبار ترقی کر سکیں۔ اس حوالے سے سرکاری خدمات کی فراہمی اور ٹیکس وصولی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بزنس کمیونٹی کو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے اور سرخ فیتہ کلچر سے نجات ملے گی بلکہ لوگ زیادہ اچھے ماحول میں اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں گے۔ سرکاری محکموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ بزنس کمیونٹی کا ہر فرد اپنے دفتر سے ہی متعلقہ سرکاری محکمے کی خدمات حاصل کرنے کیلئے دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق آن لائن درخواست فائل کر سکے گا اور اسے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگا کر سرکاری ملازمین سے فالو اپ میں وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ وہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جن پر عملدرآمد سے نہ صرف پاکستان کی معاشی بحالی کا سفر تیز ہو گا بلکہ اس سے کاروبار کرنے کے ماحول میں بھی بہتری آئیگی۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے راغب کیا جا سکے گا۔

تازہ ترین