• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں لڑائی جھگڑے نمٹانے اور لڑنے والوں میں صلح صفائی کرانیکی عالمی شہرت پانیوالی پاکستان کی قومی قیادت خود اپنے ملک میں سیاسی تنازعات اور سماجی انتشار کو اتحاد و یگانگت سے بدلنے میںناکام کیوں نظر آتی ہے؟ قومی یکجہتی کا خواب شرمندہ تعبیر کیوں نہیں ہوتا؟ ابتری کا سلسلہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا سے نکل کرآزاد جموں و کشمیر تک کیوں جاپہنچا ہے؟ایران اور امریکہ کے اختلافات کا تصفیہ جنگ کے بجائے بات چیت سے کرانے کیلئے کوشاں اسلام آباد اور پنڈی کے نیک نام سفارت کار اپنے پڑوسی افغانستان سے معاملات مذاکرات کی میز پرطے کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکے ؟ ترکی، چین، روس، قطر اور ایران جیسے خیرخواہوں کی جانب سے پاک افغان مفاہمت کی مسلسل پیشکشوں اور عملی کاوشوں کے باوجودنتیجہ صفر کیوں ہے؟ مئی کی جنگ میں بھارت کو رسوا کن شکست دیکر بلاشبہ تاریخ ساز کارنامہ رقم کیا گیا ،اس نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں بڑا اضافہ بھی کیا لیکن یہ ہماری داخلی کمزوریوں کی پردہ پوشی آخر کب تک کریگا؟ ان سوالوں کا درست جواب تلاش کرنا اور اسکے تقاضوں کے مطابق نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کرناہماری قومی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کیلئے شرط ِلازم ہے۔

ایک مدت سے پاکستانی قوم جس بڑھتے ہوئے انتشار و افتراق کا شکار ہے، آزاد کشمیر کی موجودہ مخدوش صورت حال بظاہر اس کا نقطہ عروج ہے۔ دو سال پہلے جب کشمیر میں احتجاج کی لہر اٹھی تھی تو بات چیت کے ذریعے مفاہمت میں وقتی کامیابی حاصل کرلی گئی تھی، لیکن اس کے بعد اس پوری مدت میں ان معاملات کو افہام و تفہیم سے مستقل بنیادوں پر طے نہیں کیا گیا جسکے باعث احتجاج کی نئی لہر پہلے سے بہت زیادہ شدت سے اٹھی اور مبینہ طور پر مظاہرین کی صفوں میں موجود ایسے شرپسند عناصر جو کشمیریوں کو پاکستان سے متنفر کرکے بھارت کا کھیل آسان بنانا چاہتے ہیں، نوبت خوں ریزی تک پہنچانے اور لاشوں کی سیاست کے ذریعے احتجاج کو بغاوت کا رنگ دینے کی کوشش کرنے میں کامیاب رہے۔نتیجہ یہ کہ جہاں کشمیر بنے گا پاکستان کے سوا کوئی نعرہ نہیں گونجتا تھا وہاں آج پاکستان مخالف آوازیںسنائی دے رہی ہیں۔بلاشبہ دشمن کی زبان بولنے والے آج بھی وہاں برائے نام ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں آٹھ دہائیوں سے لاکھوں بھارتی فوجیوں کی نگرانی میں جاری مظالم سے آزاد کشمیر کا بچہ بچہ واقف ہے،لیکن راولا کوٹ میں احتجاج کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش پاکستان اور بھارت کو ایک ہی صف میں کھڑا کردے گی۔لہٰذا دانشمندی اور قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ مقامی اور وفاقی حکومت اور متعلقہ مقتدر حلقے اتفاق رائے سے اور کسی اگر مگر کے بغیر مظاہرین کو پوری کشادہ دلی سے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیں ۔ یہ بات چیت خفیہ نہ رکھی جائے کیونکہ حقائق کو چھپانے کی کوشش ہمیشہ غیر مفید ثابت ہوتی اور افواہ سازوں کوسازشی کارروائیوں کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ مقتدر حلقوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوام کو سڑکوں پر لاکر اور جانیں داؤ پر لگاکر قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے تصادم پر تیار کردینااسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب شکایات کی فہرست میں حقیقی مسائل و مشکلات شامل ہوں۔ صاحبان اختیار خلوص اور ہمدردی سے ان کی بات سنیں اور شکایات کا ازالہ کرنیکی خاطر مؤثر اقدامات عمل میں لائیں تو فسادی عناصر کامیاب نہیں ہوپاتے۔ تاہم اگر لوگوں کی آواز کو طاقت سے دبایا جاتا رہے، قید وبند اور تشدد کے حربے آزمائے جائیں، معاہدے کرکے توڑے جاتے رہیں یا معاہدے دھوکا دینے ہی کیلئے کیے جائیں تو بات چیت سے معاملات کی درستی کے دروازے بند ہوتے جاتے ہیں اور ایسے گھروں میں دشمن کیلئے نقب لگانا ، نوجوانوں کو ملک کیخلاف بغاوت پر اکسانا ،علیحدگی کی تحریکیں چلانے پر تیار کرنا اورتشدد و دہشت گردی کی راہ پر لگانا آسان ہوتا جاتا ہے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا ان ہی رویوں کا نتیجہ تھا۔ بلوچستان میں پچھلے کئی عشروں کے دوران میں حالات نے بتدریج جو رنگ اختیار کیا، وہ بھی اسی حقیقت کا ثبوت ہے۔ جنرل مشرف کی علانیہ دھمکی کے بعد سردار اکبر بگٹی کے قتل نے بلوچستان میں تشدد کی تحریک کو ازسر نو زندہ کردیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں حالات پھر بہت بہتر ہوگئے اور متشدد تحریکوں سے مثبت بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ تاہم جائز مطالبات پورے نہ ہونے، معاہدے توڑے جانے اور لوگوں کے لاپتا ہونے کے مسلسل عمل نے بلوچ نوجوانوں کودشمنوں کا آلہ کار بنا کر دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی راہ پر ڈال دیا اور بات چیت کے دروازے بظاہر دونوں جانب سے مستقل طور پر بند ہوچکے ہیں۔

مکالمے اور مفاہمت کے راستے کھلے رکھے جائیں، جائز مطالبات پورے کیے جائیں ، آزادی اظہار پر قدغنیں عائد نہ کی جائیں، عدالتیں حق تلفیوں کے ازالے اور انصاف کی فراہمی کی یقینی ضامن ہوں، حکمراں قومی وسائل شاہ خرچیوں اور کرپشن کی نذر کرنے کے بجائے عوام کی زندگیاں آسان بنانے کی خاطر صرف کریں اور اقربا پروری ختم کرکے ہرشعبے میں آگے بڑھنے کا واحد معیار میرٹ یعنی اہلیت کوبنایا جائے تو ریاست لوگوں کیلئے مہربان ماں کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ ایسی حکومتیں دلوں کو فتح کرکے فاتح زمانہ بن جاتی ہیں۔ محبت عام کرنے والی ایسی سافٹ اسٹیٹ ، خوف و دہشت کے بل پر چلائی جانے والی ہارڈ اسٹیٹ کے مقابلے میں یقینی طور پر کہیں زیادہ کامیاب اور پائیدار ہوتی ہے۔ دنیا کے جھگڑے نمٹانے کی کوششوں میں مصروف ہمارے اہل اقتدار محبت، انصاف اور آزادی پر مبنی اس طرز حکومت کو اپنا لیں تو پاکستان کا ہر حصہ انتشار و افتراق ، تشدد و نفرت سے پاک ہوسکتا اور قومی اتحاد و یکجہتی کا دل خوش کن منظر ملک کامقدر بن سکتا ہے۔

تازہ ترین