• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہوم بیسڈ ورکرز کو تسلیم کیا ہے، میں بھی ایک ادارے کا برطرف شدہ ملازم ہوں، سعید غنی

سعید غنی(فائل فوٹو)۔
سعید غنی(فائل فوٹو)۔

سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت نے ہوم بیسڈ ورکرز کو تسلیم کیا ہے، میں خود بھی ایک ادارے کا برطرف شدہ ملازم ہوں۔ 

کراچی آرٹس کونسل میں آل پاکستان ویمن ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ میری دادی خود دکان چلاتی تھیں اور انہوں نے میرے والد اور ہمیں پڑھایا، آپ لوگ میری دادی سے زیادہ اچھے ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 

سعید غنی نے کہا کہ خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں، ہمیں اس کا اندازہ ہونا چاہیے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ ابھی ویسا تہذیب یافتہ نہیں جیسا دوسرے ملکوں میں ہے، ہم اس کے لیے کوشش ضرور کر رہے ہیں، میری لیڈر شپ مزدوروں کے حوالے سے کوئی تذبذب نہیں رکھتی۔ 

انہوں نے کہا کہ میں مشیر محنت تھا تب ماہانہ 5 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی، یہاں اسٹیج پر بیٹھے لوگ مجھے بھی ٹف ٹائم دیتے ہیں، میرے ادارے میں 20 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن ہوئی ہے۔ 

سعید غنی نے کہا کہ ہم دباؤ نہیں قبول کر رہے، انہیں سزا دلانا چاہتے ہیں، میں چوروں کو دوبارہ ان کی جگہ نہیں بٹھا سکتا، آپ لوگ صرف وزیروں پر چڑھائی نہ کریں۔ 

صوبائی وزیر محنت نے کہا کہ ساری زندگی وزیر نہیں رہوں گا، وزارت بچانے کے لیے اپنا منہ کالا نہیں کرسکتا، میں 10 مرتبہ وزارتوں پر لات مار سکتا ہوں، میری لیڈر شپ خرابیاں دور کرنا چاہتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم 20 لاکھ گھر بنا کر دے رہے ہیں، عورت اس گھر کی مالک ہوگی مرد نہیں، 20 لاکھ گھر بننے سے 20 لاکھ خواتین کے اکاؤنٹ بنے ہیں۔ 

سعید غنی نے کہا کہ ہوم بیسڈ ورکرز کے سوشل سیکیورٹی کارڈ بننے سے متعلق کچھ ایشوز سامنے آئے تھے، اس وقت پانچ سے چھ لاکھ مزدور رجسٹرڈ ہیں جن کی تعداد 50 لاکھ ہونی چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید