امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق معاون اور امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیے گئے بیان میں جو کینٹ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے برقرار رہنے کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا کو اسرائیل کو فراہم کی جانے والی تمام فوجی اور انٹیلی جنس مدد بند کر دینی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسی کوششیں دہرائی جا سکتی ہیں۔
جو کینٹ نے مزید کہا کہ امریکا کو خاموشی سے خلیجی ممالک میں موجود اپنے ان فوجی اڈوں سے بھی اہلکار واپس بلا لینے چاہئیں جو ایران کی رسائی میں ہیں، اس اقدام سے ایران کو امریکی افواج کو نشانہ بنا کر امریکا کو دوبارہ تنازع میں گھسیٹنے کا موقع نہیں ملے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ایسے تمام عوامل ختم کر دینے چاہئیں جو اسے اسرائیل یا ایران کی شرائط پر دوبارہ جنگ میں دھکیل سکتے ہیں اور اپنی پالیسی کو ایسے انداز میں ترتیب دینا چاہیے جس سے تمام قابلِ کنٹرول حالات امریکا کے حق میں رہیں۔