ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم ایرانی عوام پر اسرائیلی اور امریکی مظالم کو نہیں بھولیں گے، ہم نہیں بھولیں گے کہ ہم نے بڑی تعداد میں اپنی قیادت کھوئی، ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر جمعے کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے، جینیوا میں دستخط کی تقریب سے پہلے ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے ایران پر امریکا اور صیہونی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے خلاف جارحیت کا خاتمہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے، لبنان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کو ایران کا بھروسہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہوگا، جنگ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم ہونی چاہیے، لبنان کی خودمختاری کے لیے واضح قانونی فریم ورک بننا چاہیے، معاہدے کے سفارتی پہلو بہت جلد میڈیا کے سامنے لائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے میکنزم کو آج یا کل فائنل کیا جائے گا پھر اعلان ہوگا، ایران کو اپنا تیل اور پیٹروکیمیکل برآمد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، امریکا نے اپنے پیسے نہیں ایران کے منجمد اثاثے دینے ہیں، عمان اور دیگر ممالک کے ساتھ ہرمز کو محفوظ بنانے کے اقدامات کریں گے، یہ ایک مخصوص مدت کے لیے ہوگا اور امریکا کی اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کے مطابق ہوگا۔