گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں عوامی رابطہ، نظریاتی وابستگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد ہی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی نہ صرف اس جماعت کی سیاسی قوت کا مظہر ہے بلکہ یہ اس امر کا بھی واضح اظہار ہے کہ عوام آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سیاسی فلسفے کو امید اور ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں کے عوام ہمیشہ ان قوتوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں جو ان کے حقوق، شناخت اور ترقی کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دورِ حکومت میں گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور یہاں کے عوام کو سیاسی و آئینی حقوق دلانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس خطے کے عوام کے دلوں میں پیپلز پارٹی کے لیے ایک خاص جگہ موجود ہے۔
حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو جس انداز میں پذیرائی ملی، اس کی ایک بڑی وجہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کی بھرپور شرکت بھی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی جلسوں میں جس اعتماد، سنجیدگی اور وژن کا مظاہرہ کیا، اس نے نوجوانوں سمیت مختلف طبقات کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ان کی تقریروں میں محض سیاسی نعرے نہیں تھے بلکہ گلگت بلتستان کی ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے واضح لائحۂ عمل بھی موجود تھا۔بلاول بھٹو زرداری گزشتہ چند برسوں میں قومی سیاست میں ایک بالغ نظر اور متحرک سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ بطور وزیر خارجہ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا اور ملک کے وقار میں اضافہ کیا۔ گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں بھی انہوں نے مثبت سیاست، جمہوری اقدار اور عوامی خدمت کے بیانیے کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور نوجوان نسل نے انہیں خصوصی توجہ سے سنا۔اسی طرح محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کی انتخابی مہم میں موجودگی نے بھی عوامی جوش و خروش میں اضافہ کیا۔ آصفہ بھٹو زرداری کو عوام نے نہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سیاسی وراثت کی امین کے طور پر دیکھا بلکہ ایک ایسی نوجوان خاتون رہنما کے طور پر بھی قبول کیا جو ملک کی خواتین اور نوجوانوں کی آواز بن سکتی ہیں۔ ان کی موجودگی نے خاص طور پر خواتین ووٹرز کو متحرک کیا اور پیپلز پارٹی کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی صرف انتخابی اعداد و شمار کی کامیابی نہیں بلکہ ایک سیاسی سوچ کی کامیابی ہے۔ ایسے وقت میں جب ملکی سیاست میں تلخی، نفرت اور تقسیم کی فضا کو فروغ دیا گیا، پیپلز پارٹی نے مفاہمت، جمہوریت اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس جماعت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔انتخابات کے نتائج نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے عوام محض جذباتی نعروں کے بجائے عملی کارکردگی اور حقیقت پسندانہ سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ ترقی، استحکام اور عوامی فلاح ہی سیاست کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی سیاست کا محور بنایا ہے اور یہی روایت آج بھی اس کی سیاسی قوت کا سرچشمہ ہے۔یہ کامیابی مستقبل کے لیے بھی اہم اشارے رکھتی ہے۔ ملک بھر میں سیاسی جماعتیں اس نتیجے کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ پیپلز پارٹی کے لیے ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ اب ضروری ہے کہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دی جائے، ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جائے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں مزید بہتری لائی جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور جمہوریت کے لیے مسلسل کوششوں سے عبارت ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو شہید تک، اس جماعت کی قیادت نے عوامی حقوق کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ آج بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری اسی سیاسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں ان کی بھرپور موجودگی اور عوامی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھٹو خاندان کا عوام سے رشتہ آج بھی مضبوط اور زندہ ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے فیصلے سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ترقی، اعتدال، برداشت اور عوامی خدمت کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حالیہ کامیابی اسی عوامی شعور اور سیاسی بصیرت کی عکاس ہے۔ اگر یہی جذبہ اور عوامی رابطہ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں بھی پیپلز پارٹی ملک کی سیاست میں ایک مضبوط اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
گلگت بلتستان کے انتخابات نے نہ صرف پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نئی توانائی دی ہے بلکہ یہ امید بھی پیدا کی ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک بار پھر مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ عوامی اعتماد کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے اور یہ سرمایہ صرف خدمت، دیانت اور عوام سے مسلسل رابطے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس انتخابی معرکے میں یہ ثابت کیا ہے کہ نظریاتی سیاست آج بھی زندہ ہے اور عوام آج بھی ان قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو ان کے حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔