• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگوں کا انجام ہمیشہ میدانِ کار زار میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات توپوں کی گھن گرج، میزائلوں کی آگ اور دھویں کے بادلوں کے پیچھے ایک اور جنگ جاری ہوتی ہے؛ سفارتکاری کی جنگ، تدبر کی جنگ اور اعصاب کی جنگ۔ جب گرد بیٹھتی ہے اور جذبات کی تپش مدھم پڑتی ہے تو تاریخ یہ طے کرتی ہے کہ فتح کا تاج کس کے سر سجا اور شکست کا بوجھ کس کے کندھوں پر آن پڑا۔حالیہ بحران کے بعد فریقین کا جنگ بندی پر آمادہ ہونا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ طاقت کی آخری منزل بالآخر مکالمہ ہی ہے۔ اس سارے منظرنامے میں پاکستان نے جس کردار کا مظاہرہ کیا، وہ محض ایک ریاست کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور پختہ ریاستی شعور کا اظہار تھا جو مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان کو خطے کی سیاست میں ایک مؤثر کردار عطا کرتی ہے۔ آج اگرپاکستان کے چہرے پر اطمینان کی روشنی ہے تو اسلئے کہ اس نے شعلوں میں گھرے خطے میں مفاہمت کا چراغ روشن رکھنے کی کوشش کی۔ گزشتہ روز امریکی قونصل جنرل سے ملاقات ہوئی توانہوں نے بھی پاکستان کے سفارتی کردار کی پذیرائی کی ۔ خیر پاکستان کی یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ اسکے ثمرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایک ایسے خطے تک بھی پہنچیں گے جو برسوں سے کشیدگی، عدم استحکام اور باہمی بداعتمادی کا شکار ہے۔ ایران پر پابندیوں سے لیکر حالیہ فوجی کارروائیوں تک، اس تنازعے کے اثرات پوری دنیا نے محسوس کیے ہیں۔ تیل کی منڈیوں سے لیکر عالمی تجارت تک، ہر سطح پر اس کشمکش کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ امریکہ کی خواہش ایران کے سیاسی نظام کو بدلنے کی تھی توفی الحال یہ خواب تعبیر سے دور ہے ۔ اسی طرح ایران کے اندر کسی بڑی عوامی بغاوت کے رونما نہ ہونے نے بھی اسرائیلی اندازوں اور پیش گوئیوں کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے کہ وہ اس حد تک غلط کیوں تھا۔ مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنیوالی ریاستیں بھی داخلی کمزوریوں سے صرفِ نظر نہیں کر سکتیں۔ ایران کی حکومت کے سامنے بشار الاسد کی مثال موجود ہے کہ بظاہر وہ بغاوت پر قابو پا گیا تھا مگر اندر کی کشمکش اسے لے بیٹھی ۔ ایران کو چاہئے کہ اختلافِ رائے کو خطرہ نہیں بلکہ قومی مکالمے کا سرمایہ سمجھے۔ اقتدار کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کیلئے کتنی جگہ پیدا کرتا ہے۔رائے کاجواب دلیل سے دیا جائے تو معاشرے مضبوط ہوتے ہیں، طاقت سے دیا جائے تو دراڑیں گہری ہو جاتی ہیں۔ ایران کو اپنی خارجہ پالیسی کا بھی نئے حالات کی روشنی میں جائزہ لینا ہوگا۔ دنیا بدل رہی ہے، اتحاد بدل رہے ہیں اور قومی مفادات کے پیمانے بھی نئے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ بحران میں جس خیر خواہی اور تعاون کا اظہار کیا، وہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کا فطری تقاضا تھا۔ اب یہ تعلقات باہمی احترام، واضح مفادات اور عملی تعاون کی بنیاد پر مزید مستحکم ہونے چاہئیں۔پاکستان کی صرف یہ خواہش ہے کہ ایران جس سےمرضی دوستی رکھے ، مگر جس کیساتھ بھی دوستی بڑھائے اسکا کوئی بھی اقدام ایران سے اسکی دوستی کی بدولت پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے، ایران کو اس بات کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا، پاکستان اور ایران کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی رشتے موجود ہیں۔ مگر افسوس کہ بعض اوقات چند غیر ذمہ دار آوازیں یا یوں کہہ لیجئے کہ خود ساختہ ترجمان ان تعلقات کو اپنے محدود سیاسی یا فرقہ وارانہ مقاصد کیلئے استعمال کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کسی کے دوست نہیں۔جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، وہ دنیا کی بڑی طاقت ہے، مگر طاقت کی اصل آزمائش صرف جنگ جیتنا نہیں بلکہ امن قائم کرنا بھی ہے۔ خلیج کے حالیہ واقعات نے بہت سے پرانے تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ اتحادی اب صرف عسکری قوت ہی نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور بحرانوں کے دانشمندانہ حل بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال سے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں میں یہ تاثر مضبوط ہو گیا ہے کہ امریکہ انکی حفاظت کرنیکی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور تنہا اسرائیل کی خواہشات پر امریکہ نے خلیج کے امن کو داؤ پر لگا دیا ، اسرائیل تو یقینی طور پر یہ جنگ ہار گیا ہے اور اس ہارکے ہار، جو اس نے اپنے گلے میں خود لٹکا لیاہے، سے 1967ء اور 1973ء کی جنگوں سے جو اسرائیل کی فوجی برتری کا بت پاش پاش ہو گیا ہے۔ امریکہ کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک اسرائیل کی ہر معاملے میں ہمنوائی کرے گا اور کب تک اسرائیل کیلئے یہ ممکن رہے گا کہ وہ فلسطينیوں پرظلم کے پہاڑ توڑتا رہے ۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں اور اعتماد کے بغیر امن کا خواب تعبیر نہیں پاتا۔ فلسطین کا مسئلہ آج بھی مشرقِ وسطیٰ کے ضمیر پر ایک ایسا زخم ہے جو وقت کیساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔دنیا کو اس وقت بارود سے زیادہ تجارت، محاذ آرائی سے زیادہ مکالمے اور تصادم سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے اور صدر ٹرمپ تو اقتدار میں اسی تصور کے ساتھ آئے تھے کہ وہ اسلحہ سے نہیں بلکہ ٹریڈ کی طاقت سے امریکی خارجہ پالیسی کو ترتیب دینگے کیونکہ جنگیں وقتی فتوحات دے سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف اُن ہاتھوں سے جنم لیتا ہے جو مصافحے کیلئے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ اُن انگلیوں سے جو ہمیشہ ٹریگر پر رہتی ہیں۔شاید یہی اس پورے بحران کا سب سے بڑا سبق بھی ہے کہ آخرکار بندوقوں کی آواز خاموش ہو جاتی ہے، مگر عقل، تدبر اور سفارتکاری کی بازگشت تاریخ میں دیر تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

تازہ ترین