• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے، سینیٹر عبدالقادر

تصویر، فیس بک، سینیٹر عبدالقادر
تصویر، فیس بک، سینیٹر عبدالقادر

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے روبرو سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فنانس بل پر حتمی سفارشات کا عمل جاری ہے۔

کمیٹی ممبر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیاں 20، 25 سال فائنل ٹیکس رجیم میں تھیں، اب آپ کہتے ہیں اس پر آئی ایم ایف والے نہیں مان رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ بےشک 400 ارب کی بجائے 450 ارب روپے اکٹھا کریں، کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے۔

سینیٹر محمد عبدالقادر نے یہ بھی کہا کہ آپ کہتے ہیں ہمارے ودہولڈنگ ایجنٹس آکر ٹیکس لیں گے، آپ بےشک ایک ڈیڑھ فیصد مزید ٹیکس بڑھا دیں لیکن وہ فائنل ہو۔

اُن کا کہنا تھا کہ آپ کنسٹرکشن کمپنیوں پر 8 فیصد ٹیکس بڑھا کر بے شک 8 اعشاریہ5 فیصد کردیں، 15، 20 ہزار چھوٹی کنسٹرکشن کمپنیوں کے لیے تھوڑی آسانی کر دیں۔

سینیٹ کمیٹی کے ممبر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیاں تعمیراتی سامان پر پہلے ہی ٹیکس دے رہی ہیں، اس طرح تو کمپنیوں پر 4، 5 بار ٹیکس بن جاتاہے۔

دوران کمیٹی رکن سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کے بہانے ایف بی آر عملہ چمڑی نکالتا ہے، ہم چاہتے ہیں 4 سو کی بجائے سوا 4 سو ارب اکٹھا کریں، لوگوں کو ہراساں کرنے سے بچائیں اور کمپنیوں کو کام کرنےدیں۔

قومی خبریں سے مزید