• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مفتاح اسماعیل نے آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ موجودہ شہباز شریف حکومت نے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے سالانہ قرض بڑھایا۔

عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے وفاقی بجٹ سیمینار سے خطاب میں مفتاح اسماعیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف حکومت نے 4  سال میں ساڑھے 8 ہزار ارب روپے سالانہ قرض بڑھایا، پہلے 75 سال میں یہ اضافہ تقریباً 700 ارب روپے سالانہ تھا۔

سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ معیشت میں استحکام کا حکومتی دعویٰ درست ہے لیکن غربت، بیروزگاری اور سرمایہ کاری میں استحکام نہیں آیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ روپے میں استحکام آیا مگر عام آدمی کی مشکلات کم نہیں ہوئیں، برآمدات، گندم اور کپاس کی پیداوار میں بہتری نہیں آئی۔

مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر 60 لاکھ تک پہنچ گئی، گندم کے کسانوں کے ساتھ وعدہ خلافی ہوئی، کسان کو نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگی کھاد اور زرعی اخراجات نے کسان کی مشکلات بڑھادی ہیں، آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت بڑھ سکتی ہے، موجودہ بجٹ معاشی بحران کا حل پیش نہیں کرتا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس بڑھا رہی ہے مگر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل رہا، اگلے سال ٹیکس وصولی کا ہدف بڑھا کر 15 ہزار ارب سے زیادہ کر دیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں عوام پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، عوام ٹیکس دیتے ہیں مگر انہیں بجلی، پانی اور سیکیورٹی کی سہولیات پوری نہیں ملتیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے مگر بجلی مہنگی ہے، حکومت کو مزید مہنگے بجلی منصوبوں کی بجائے موجودہ مسائل حل کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور گرتی برآمدات پر توجہ دینی چاہیے تھی، 20 سال سے پاکستان کی معیشت خطے کے ممالک سے پیچھے جا رہی ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے، جس میں عام آدمی پر بوجھ کم ہو، حکومت کو پہلے اپنے اخراجات کم پھر عوام پر ٹیکس لگانا چاہیے، بڑھتی مہنگائی میں تنخواہ دار طبقے پر زیادہ ٹیکس ظلم ہے۔

قومی خبریں سے مزید