کراچی کے علاقے قائدآباد میں 3 سال کی بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے میں پولیس کو کراچی یونیورسٹی سے ڈی این اے کی رپورٹس موصول ہوگئیں۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن کا کہنا ہے کہ مقتولہ بچی اور مشکوک افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 13 مشکوک افراد کے ڈی این اے لیبارٹری میں جمع کروائے تھے، مشکوک افراد میں بچی کے اہلخانہ، پڑوسی، قریبی رشتے دار شامل تھے۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن کا کہنا ہے کہ مزید 50 کے قریب افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 23 جون کو کراچی میں قائد آباد سے بچی کی لاش ملی تھی، بچی کو ذیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔