لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ والدین کسی بھی سمجھوتے کے ذریعے نابالغ بچے کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق ختم نہیں کر سکتے، عدالت نے فیملی کورٹس کو والدین کے درمیان سمجھوتے میں بچوں کے نان نفقہ کی شق شامل کرنے سے روک دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے محمد ولید ارشد کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
درخواست گزار نے فریقین کے درمیان سمجھوتہ طے پانے کے بعد درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی، فیصلے کے مطابق فریقین کے مابین ہونے والے سمجھوتے میں ماں نے نابالغ بچی کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جبکہ یہ شق بھی شامل تھی کہ بچی مستقبل میں والد سے کسی قسم کے نان نفقہ کا مطالبہ نہیں کر سکے گی اور والد کی وراثت میں بھی حصہ دار نہیں ہوگی۔
عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ کی مسلسل قانونی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے اور نان نفقہ کا حق بچے کا اپنا حق ہے، جس کی مالک ماں نہیں بلکہ صرف سرپرست ہوتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ماں نابالغ کے مستقبل کے نان نفقہ کے حق سے مستقل دستبردار نہیں ہو سکتی اور اس نوعیت کی کوئی بھی شق قانوناً غیر مؤثر تصور ہوگی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بچے کو نان نفقہ یا وراثت سے مستقل محروم کرنا آئین اور قانون دونوں کے منافی ہے اور والدین کی رضامندی بھی ایسے کسی سمجھوتے کو قانونی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی جو بچے کے مفاد کے خلاف ہو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ نابالغ کے مستقبل کے وراثتی حقوق ختم کرنے یا ترک کرنے کی ہر شق ابتدا ہی سے غیر قانونی سمجھی جائے گی اور ایسی شقیں مستقبل میں بچے کی جانب سے دائر کسی بھی دعوے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکیں گی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ فیملی، گارڈین اور سول عدالتیں نابالغوں کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور فیملی کورٹس کسی بھی سمجھوتے کی منظوری سے قبل بچے کے بہترین مفاد اور فلاح و بہبود کا لازماً جائزہ لیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ بچے کے مفاد کے خلاف کسی شق کو نہ تو سمجھوتے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عدالتی حکم یا ڈگری کا۔
عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔