آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے۔
جاوید عالم اوڈھو نے ’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال 12 سال سے کم عمر کے 32 بچے قتل ہوئے، 32 میں سے 22 مقدمات کو حل کر لیا گیا ہے، مجرم حوالات میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں سزا کا تناسب 13 سے بڑھ کر 22 فیصد ہو گیا ہے، بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں زیادہ تر قریبی رشتے دار ملوث ہوتے ہیں۔
آئی جی سندھ نے بتایا ہے کہ کلفٹن میں ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث 3 ملزمان حوالات میں ہیں، دیگر 2 ملزمان کی بھی شناخت ہو چکی ہے، جنہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
اُنہوں نے بتایا کہ ڈیفنس کے علاقے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگنے سے جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، 6 ماہ میں اسٹریٹ کرائم میں 11.8 فیصد کمی ہوئی ہے۔
جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی گئی۔
انہوں نے بتایا ہے کہ سیف سٹی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا، 1150 کے قریب کیمرے لگے، سیف سٹی کا دوسرا فیز 90 فیصد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔
آئی جی سندھ نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال کراچی میں دہشت گردی کے37 واقعات ہوئے تھے، رواں سال دہشت گردی کے صرف 7 واقعات ہوئے۔