خیبر پختونخوا کی حکومت تاحال فیصلہ نہیں کرسکی کہ صوبے کا بجٹ سال بھر کےلیے ہوگا یا صرف آئندہ 3 ماہ کےلیے ہوگا؟
ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بجٹ سے متعلقہ احکامات کے منتظر ہیں، جن کی جانب سے کل یا پرسوں تک ہدایت جاری کی جاسکتی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق محکمہ خزانہ نے آئندہ مالی سال کےلیے 2 بجٹ تیار کر رکھے ہیں، مکمل بجٹ کا حجم 2200 ارب روپے سے زائد ہے۔ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے500 ارب روپے سے زیادہ مختص ہیں۔
دوسرا بجٹ تین ماہ کا ہے جس کا حجم 300 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ سہ ماہی بجٹ کی صورت میں سالانہ ترقیاتی پروگرام بجٹ میں شامل نہیں ہوگا، جس سے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف متاثر ہوں گے بلکہ سرکاری خزانہ کو اربوں روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔
خیبر پختونخوا اور بالخصوص ضم اضلاع میں ترقی کےخواہاں وزیراعلی سہیل آفریدی سیاسی دباؤکے باعث اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پورے سال کا پیش کیا جائے یا صرف تین ماہ کا۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت سہ ماہی بجٹ پیش کرتی ہے تو نہ صرف صحت، تعلیم، سڑکوں سمیت متعدد شعبوں میں جاری ترقیاتی کام متاثر ہوں گے بلکہ صوبے کو اربوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی بروقت دستیابی اور مالی یقین دہانی ضروری ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سہ ماہی بجٹ کے دوران صرف جاری اور غیر ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی جائے گی۔ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے پیسے جاری نہیں کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف جاری منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہوگی بلکہ نئے منصوبے بھی بروقت شروع نہیں ہوسکیں گے۔
اپوزیشن جماعتوں نے ممکنہ سہ ماہی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے معاشی منصوبہ بندی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
محکمہ پی اینڈ حکام نے وزیراعلی سہیل آفریدی کو رواں مالی سال اور آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق بریفنگ بھی دی ہے، جس پر وزیراعلیٰ نے منصوبوں میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نئےسالانہ ترقیاتی پروگرام میں صحت، تعلیم اوردیگر سماجی شعبوں پرخصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ میں تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے والی پی ٹی آئی عوام کو اب تک کچھ بھی ڈلیور نہیں کرسکی سہ ماہی بجٹ پیش کیے جانے سے صوبہ کی معیشت مزید پیچھے دھکیل دی جائے گی۔