قومی اسمبلی سے منظور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل سینیٹ میں پہنچ گیا۔
بل کے متن میں تحریر کیا گیا ہے کہ نجی جائیداد مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کیلئے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔
بل کے متن میں کہا گیا کہ لائسنس یافتہ کو نجی یا پبلک پراپرٹی پر ٹیلی کمیونیکشن نظام، انفرااسٹرکچر لگانے کیلئے اراضی پر داخل ہونے کا حق ہوگا۔
اس میں کہا گیا کہ لائسنس یافتہ کو نجی یا سرکاری پراپرٹی پر آپٹیکل فائبر کیبل، ٹیلی کمیونیکشن ٹاور کیلئے اراضی پر داخل ہونے کا حق ہوگا۔ کوئی مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارہ لائسنس یافتہ کے حق میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔
متن کے مطابق لائسنس یافتہ پہلے متعلقہ اراضی کے مالک یا کرائے دار سے مرضی حاصل کرے گا، مالک یا کرائے دار کا جواب نہ ملنے پر 15 دن بعد یاد دہانی کرائی جائے گی۔ پبلک اتھارٹی سے 30 دن تک جواب نہ ملنے پر اسے رضامندی کا جواب تصور کیا جائے گا۔
اس میں یہ بھی کہا گیا کہ نجی شخص کی جانب سے جواب نہ ملنے پر معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیج دیا جائے گا۔ حقوق دینے میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالنے پر مالک یا کرائے دار اور ادارے پر 50 ملین روپے تک جرمانہ ہوگا۔ ہاؤسنگ سوسائٹی یا کمرشل ادارے کی جانب سے جواب نہ ملنے پر اسے بھی منظور تصور کیا جائے گا۔ لائسنس یافتہ مرمت اور مینٹنس کا کام کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
متن کے مطابق لائسنس یافتہ متاثرہ علاقے کو اس کی اصل حالت میں بحال بھی کرے گا، سرکار ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کیلئے کوئی چارجز، فیس یا کرایہ وصول نہیں کرے گی نہ لیوی لے گی۔ نجی شخص یا ادارے لائسنس یافتہ کے ساتھ چارجز فیس یا کرایہ طے کریں گے۔ نجی شخص یا ادارے سے اتفاق نہ ہونے پر معاملہ حل کے لیے متعلقہ حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔
متن میں کہا گیا کہ ایک دفعہ حقوق مل جانے کے بعد متعلقہ مالک یا کرائے دار شرائط کو نہ تبدیل کرے گا اور نہ ہی اجازت منسوخ ہوگی۔ کوئی بھی تنازع ہونے کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس سیٹلمنٹ کیلئے بھیجا جائے گا۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی کی چیئر پرسن پلوشہ خان بل پر رپورٹ دینے کیلئے ایوان بالا سے 45 دن کا وقت مانگیں گی۔
قومی اسمبلی میں یہ بل وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے گزشتہ روز اپنے اجلاس میں بل کی منظوری نہیں دی تھی۔