سینیٹ میں بجٹ کے حوالے سے پیش کی گئی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 15 فیصد اضافہ کیا جائے، وفاقی ملازمین اور پنشنرز کے منجمد میڈیکل الاؤنس کو بحال کیا جائے۔
سینیٹ میں بجٹ سفارشات میں کہا گیا کہ تنخواہ دار اور کم آمدن والے افراد کا ٹیکس ریٹ کم کیا جائے، اشیاء خورونوش، ادویات، تعلیمی سامان اور زرعی ان پٹ پر جی ایس ٹی کم کیا جائے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے فنڈ مختص کیا جائے۔
سفارشات کے مطابق رہائش پذیر یا وزٹ پر آئے غیر ملکیوں کو اپنے استعمال کیلئے شراب لانے کی اجازت دی جائے۔
بجٹ سفارشات میں کہا گیا کہ کھاد، بیج، کیڑا کش ادویات، ڈیزل اور زرعی مشینری پر ٹیکس اور ڈیوٹی صفر کی جائے، سرکاری اسپتال، بنیادی صحت، اعلیٰ تعلیم فنڈ اور اسکالرشپ کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔
بجٹ سفارشات میں کہا گیا کہ غیرترقیاتی اخراجات کو کم کیا جائے، ایس ایم ایز کا ٹیکس نظام سادہ بنایا جائے، اشیاء ضروری اور تنخواہ دار طبقے پر مجوزہ ٹیکس اقدامات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ٹیکس بیس کو بڑھایا جائے۔
بجٹ سفارشات کے مطابق گھریلو صارف اور کم آمدن والے افراد کے بجلی بل سے اضافی چارج اور ٹیکس واپس لیا جائے، آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کیلئے ٹیکس استثنیٰ کو مزید 10 سال کیلئے بڑھایا جائے۔
بجٹ سفارشات کے مطابق 3 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں، لگژری پراپرٹی اور غیر پیداواری اثاثوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، ضروری اشیاء پر ان ڈائریکٹ ٹیکس کم کیا جائے، ترقیاتی بجٹ منتخب مقامی حکومتوں کو براہ راست منتقل کرنے کا میکنیزم بنایا جائے۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مہنگی ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور نان فائلر کی لگژری ٹرانزیکشن کیلئے جامع ٹیکس اور دستاویزی اقدامات کیے جائیں، وفاقی ترقیاتی بجٹ کی ایک فکسڈ شرح مقامی حکومتوں کو منتقل کی جائے۔
بجٹ سفارشات کے مطابق کم پراپرٹی ٹیکس صرف پہلی مرتبہ گھر خریدنے والے پر رکھا جائے، سرمایہ کار، فائلز، پلاٹس، دوسری بار گھر خریداری پر پراپرٹی ٹیکس بحال رکھا جائے۔