• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے عین کامیاب ہوتے امن مذاکرات کے دوران گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کی خاطر ایران پر شب خون مارکر پوری انسانی برادری کو جس تباہ کن عالمی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا ،اگر اسکی روک تھام نہ کی جاتی تو اب تک دنیا یقینا ناقابل تصور تباہی سے دوچار ہوچکی ہوتی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ محض ایک سو دس دن بعد نیتن یاہو کی سازش کا نتیجہ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کی صلح اور اسرائیل کی عالمی تنہائی اور رسوائی کی شکل میں نکلے گا۔ ایران پر مسلط کی گئی اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں مسلسل یہ خدشہ رہا کہ خلیجی ملکوں میں قائم امریکی اڈوں پر ایرانی بمباری مسلم دنیا کو باہمی خوں ریزی میں الجھادے گی لیکن پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی مخلصانہ کاوشیں خدا کے فضل سے اس خدشے کے حقیقت بننے میں رکاوٹ بن گئیں جبکہ جمعرات اٹھارہ مئی کو 14نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ایرانی و امریکی صدور اور بحیثیت ثالث وزیر اعظم پاکستان کے دستخط کے بعد ان شاء اللہ معاہدے کے مطابق ایران پر کئی عشروںسے لگی تجارتی و معاشی پابندیاں ختم ہو جائینگی۔ تعمیر نو کیلئے اسے سینکڑوں ارب ڈالر فراہم کیے جائینگے اور عالمی معیشت پر چھائے تباہی کے بادل چھٹ جائیں گے۔

آج پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کا امریکہ، چین، روس سمیت پوری دنیا اعتراف کررہی ہے اور اپنی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کی خاطر بے مثال شجاعت اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنے والی ایرانی قوم اور قیادت تہ دل سے پاکستان کی ممنون ہے۔ تاہم یہ مفاہمت امن کی ایک عارضی منزل ہے۔ معاملات کے مستقل حل کیلئے ایران اور امریکہ میں تفصیلی مذاکرات ابھی باقی ہیں جن کا دورانیہ ساٹھ دن تک طویل ہوسکتا ہے۔ اس مدت میں جنگ دوبارہ چھڑجانے کا خدشہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھ کر اس صلح کو ختم کرانے کی کوشش کرہی رہا ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور ایران میں سوئس ٹاکس کا آغاز جمعہ کو نہیں ہوسکا۔ حالات کی گواہی یہی ہے کہ ان تمام خدشات کی روک تھام میں ترکیہ، سعودی عرب اور قطر وغیرہ کے تعاون سے پاکستان کلیدی کردار ادا کرے گا کیونکہ خدا کے فضل سے ہماری موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کو مسلم و غیر مسلم دنیا کے بیشتر ملکوں کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ ستاون رکنی اسلامی تعاون تنظیم کو فعال کرنا تو مشکل ہے تاہم ترکیہ، سعودی عرب، قطر ، ایران اور پاکستان مشترکہ دفاعی و معاشی اور دیگر درپیش چیلنجوں بشمول مسئلہ فلسطین و کشمیر سے نمٹنے کی خاطر ایک مستقل اتحاد قائم کرسکتے ہیں جس میں اس کے مقاصد سے اتفاق رکھنے والے ملکوں کی شمولیت کا راستہ کھلا رکھا جائے۔پاکستانی قیادت اس تجویز کو عملی شکل دے سکے تو یہ یقینا ایک لازوال کارنامہ ہوگا۔ تاہم پاکستان کا یہ کردار اسی صورت میں قومی سربلندی کا دائمی وسیلہ بن سکتا ہے جب داخلی محاذ پر درپیش معاشی و سیاسی اور سماجی مسائل پر بھی کامیابی کے ساتھ قابو پایا جائے۔داخلی استحکام کے بغیر کسی پائیدار اور ہموار ترقی کی توقع عبث ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر میثاق جمہوریت پر اتفاق کیلئے اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دے کر اس سمت میں درست قدم اٹھایاہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اپوزیشن نے بھی اس پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔اس کے بعد اس معاملے میں تیزرفتار اور نتیجہ خیز پیش رفت ضروری ہے تاکہ ملک برسوں سے جاری سیاسی انتشار سے نجات پائے جس کے بغیر معاشی بہتری محال ہے۔ سیاسی قوتوں میں مفاہمت ملک کے مختلف حصوں میں پائے جانے والے احساس محرومی اور دہشت گردی سمیت اس کے منفی نتائج کی شدت کو بتدریج ختم کرسکتی ہے جن کا نہایت تشویشناک مظاہرہ ان دنوں آزاد کشمیر میں دیکھا جارہا ہے۔سیاسی جماعتوں کو بھی وقتی سیاسی مفادات کیلئے قومی مفادکو نقصان پہنچانے کی روش سے مستقل طور پر باز آجانا چاہئے جس کا جاری رہناپوری بساط لپیٹے جانے کا جواز بن سکتا ہے۔ افغانستان سے بھی مستقل امن کیلئے مکالمے کا سلسلہ بحال کیا جانا چاہئے جس کی خواہش ہمارے تمام خیرخواہ ممالک رکھتے ہیں۔

ایران سے سستا تیل اور گیس ملنا شروع ہوجانے کے بعد پاکستانی معیشت کی تیزرفتار بحالی کی راہیں کھل جائیں گی ۔ تاہم اس کے نتائج کی بلاتاخیر نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنائے بغیرملک میں کوئی عمومی خوشحالی نہیں آسکتی لہٰذا ضروری ہوگا ۔ اس کیلئے کرپشن کا جڑ بنیاد سے خاتمہ لازم ہے۔ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کی کوششوں میں ناکامی کا بھی ایک بڑا سبب یہی ہے۔ پیچیدہ قوانین اوررشوت خور سرکاری مافیا سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔مکمل شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن ہی اس کا حل ہیں ۔ علاوہ ازیں ملک پر قرضوں کا ہر روز بڑھتا بوجھ معاشی بحالی کے ہر اقدام کو ناکام بنانے کیلئے کافی ہے۔ قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض کی پالیسی ملک کو یقیناََ لے ڈوبے گی۔ تاہم سینکڑوں ارب ڈالر باہر جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جس کا انکشاف وفاقی وزیر داخلہ نے کچھ دن پہلے کراچی میں کاروباری برادری سے خطاب میں کیا۔یہ سلسلہ آخر بند کیوں نہیں ہوتا؟ماضی میں پاناما، پینڈورا اور سوئس لیکس میں سینکڑوں پاکستانیوں کے نام سامنے آچکے ہیں جنہوں نے کم وبیش پانچ چھ سو ارب ڈالر کی لوٹی گئی قومی دولت بیرون ملک منتقل کی۔ اس دولت کو واپس لانے کی باتیں تو بہت ہوتی رہیں لیکن پھر خاموشی چھاگئی، آخر کیوں؟ کھربوں ڈالر کی معدنی دولت سے پاکستان کے مالا مال ہونے کی خوشخبریاں بھی قوم کو وقتاً فوقتاً سنائی جاتی رہتی ہیں ، قرضوں سے نجات اور اپنے وسائل سے ترقی کیلئے کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ان وسائل کو بروئے کار لانا بھی ناگزیر ہے۔ معیشت پر ایک بہت بڑا بوجھ سرکاری ملازمین کی پنشن کے اخراجات ہیں۔ پنشن یافتگان کی ضروریات کیلئے ان کی گریجویٹی وغیرہ کی رقم کو محفوظ و معتبر سرمایہ کاری اسکیموں میں لگاکر پنشن کے اخراجات کم کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔

تازہ ترین