• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی فضا میں جب بھی آئینی ترامیم کی بات ہوتی ہے تو اسکے اثرات صرف پارلیمنٹ کے ایوانوں تک محدود نہیں رہتےبلکہ اسکی بازگشت ملک کے چاروں صوبوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف سیاسی حلقوں، میڈیا اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اگرچہ تاحال اس ترمیم کا کوئی باضابطہ مسودہ سامنے نہیں آیا، لیکن اسکے باوجود اس موضوع نے خاص طور پر سندھ میں کئی سوالات اور خدشات کو جنم دیاہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی وفاقی سیاست میں سندھ ہمیشہ صوبائی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور آئینی حقوق کے معاملے پر حساس مؤقف رکھتا آیا ہے۔

اس بحث کو سمجھنےکیلئے ماضی کی طرف دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کی آئینی تاریخ میں 18ویں آئینی ترمیم کو ایک تاریخی سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے وفاق کے کئی اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے، مشترکہ مفادات کونسل کے کردار کو مضبوط بنایا گیااور صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ سندھ سمیت تمام صوبوں نے اسے وفاقی اکائیوں کے حقوق کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نئی آئینی ترمیم کی بات سامنے آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا اس سے 18ویں ترمیم کے ثمرات متاثر تو نہیں ہوں گے۔

سندھ میں پائے جانے والے خدشات کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ سندھ کے سیاسی، قوم پرست اور سماجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی نئی آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات کم کیے گئے یا بعض اختیارات دوبارہ وفاق کو منتقل کیے گئے تو اس کے منفی اثرات صوبائی خودمختاری پر مرتب ہوں گے۔ سندھ کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں کے عوام ہمیشہ اپنے آئینی اور معاشی حقوق کے حوالے سے حساس رہے ہیں، اس لیے کسی بھی آئینی تبدیلی کو بہت غور سے دیکھا جاتا ہے۔ایک اہم خدشہ وسائل کی تقسیم سے متعلق بھی ہے۔ سندھ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ، صنعتی مراکز اور اہم تجارتی سرگرمیاں اسی صوبے میں موجود ہیں۔ سندھ کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں این ایف سی ایوارڈ یا مالیاتی اختیارات کے نظام میں تبدیلی کی گئی تو اس سے صوبے کے مالی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آئی، لیکن سیاسی بحث میں یہ خدشات مسلسل زیرِ بحث ہیں۔

اسی طرح سندھ میں بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی آئینی ترمیم کے ذریعے انتظامی یا بلدیاتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لائی گئیں تو ان کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے۔ سندھ کی شہری اور دیہی سیاست پہلے ہی مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اس لیے آئینی سطح پر ہونے والی ہر تبدیلی کو یہاں خاص اہمیت دی جاتی ہے۔دوسری طرف بعض ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار یہ رائے رکھتے ہیں کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہوتا ہے اور وقت ک ساتھ اس میں اصلاحات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی نئی آئینی ترمیم کا مقصد مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا، اداروں کے درمیان اختیارات کی بہتر تقسیم یا انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہو تو اس پر قومی سطح پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ تاہم وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایسی کسی بھی ترمیم کو تمام صوبوں، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت کے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی آئینی ترمیم کو محض سیاسی ضرورت کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر مجوزہ ترامیم سے صوبوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے یا وفاق اور اکائیوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا ہے تو اس کے نتائج ملک کیلئے مثبت نہیں ہوں گے۔

سندھ کے خدشات کو صرف سیاسی مخالفت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ایک وفاقی نظام میں ہر صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آئینی اختیارات، وسائل اور شناخت کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ اسی طرح وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی بڑی آئینی تبدیلی سے قبل تمام اکائیوں کو اعتماد میں لے اور انکے تحفظات کو دور کرے۔ قومی یکجہتی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ فیصلے طاقت کے بجائے اتفاقِ رائے اور مشاورت سے کیے جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مضبوطی ایک مضبوط وفاق میں مضمر ہے، اور مضبوط وفاق وہی ہوتا ہے جہاں تمام صوبے خود کو برابر کا شراکت دار محسوس کریں۔ اگر مستقبل میں 28ویں آئینی ترمیم یا کسی نئے آئینی پیکیج پر غور کیا جاتا ہے تو ضروری ہوگا کہ اس کا مقصد اختیارات کو محدود کرنا نہیں بلکہ وفاقی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور متوازن بنانا ہو۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آئینی ترامیم محض قانونی دستاویزات میں تبدیلی کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تمام خدشات اور تجاویز کو سنجیدگی سے سننا اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری مضبوطی کا راستہ صوبائی حقوق کے احترام، آئینی بالادستی اور باہمی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔

تازہ ترین