• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا سب سے حساس خطہ رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے تنازعات، خلیجی ریاستوں کے سیکورٹی خدشات اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے اس خطے کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی ملک کشیدگی کو کم کرنے، جنگ کے امکانات کو روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک قابلِ قدر خدمت بھی ہوتی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے یہی کردار ادا کیا اور اس کردار کے مرکز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت نمایاں نظر آئی۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ توازن، امن اور مکالمے پر رہی ہے۔ چاہے چین اور امریکہ کے درمیان تاریخی رابطوں کی بات ہو، افغانستان میں امن عمل ہو یا اسلامی دنیا کے مختلف تنازعات، پاکستان نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایسے وقت میں جب پورا خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا تھا، پاکستان نے پس پردہ سفارت کاری، رابطوں اور اعتماد سازی کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا بلکہ قومی سلامتی کے تصور کو سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے ساتھ جوڑ کر ایک نئے انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے یہ حقیقت بخوبی سمجھ لی تھی کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سمندری تجارت میں رکاوٹیں، عالمی معاشی دباؤ اور سیکورٹی خطرات پاکستان سمیت پورے خطے کو متاثر کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے امن کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔

اس پورے عمل کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ پاکستان نے نہ صرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو فروغ دیا بلکہ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور قطر کے ساتھ بھی قریبی مشاورت جاری رکھی۔ بعض مواقع پر ایسے حالات پیدا ہوئے جب ایران کے اندر موجود مختلف دھڑے اور سخت گیر عناصر کے اقدامات کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔ ایسے ماحول میںوزیراعظم ،وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل نے سعودی اور قطری قیادت کو تحمل اور بردباری کا مشورہ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب ایسا نہ ہو جو پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک دے۔

پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ اسلامی دنیا کو تقسیم کرنے اور مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جانی چاہیے۔ اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک جذباتی ردِعمل اختیار کرتے تو صورتحال تیزی سے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ بعض عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جن کا فائدہ صرف اُن قوتوں کو پہنچے گا جو خطے میں مستقل کشیدگی اور عدم استحکام چاہتی ہیں۔ اس لیے تحمل، مکالمہ اور سفارت کاری ہی دانشمندانہ راستہ تھا۔یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی کہ خلیجی قیادت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور تنازعے کو مزید وسعت دینے کے بجائے مذاکرات اور رابطوں کو ترجیح دی۔ یہی رویہ بعد ازاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا سبب بنا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عسکری طاقت کا اصل مقصد صرف جنگ لڑنا نہیں بلکہ امن کو محفوظ بنانا بھی ہے۔ ایک مضبوط فوج وہی ہوتی ہے جو ضرورت پڑنے پر سرحدوں کا دفاع کرے اور موقع آنے پر امن کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھا گیا اور کئی ممالک نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا۔

یہ کامیابی پاکستان کی روایتی خارجہ پالیسی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا، چین، امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ اس منفرد حیثیت نے پاکستان کو ہمیشہ ایک اہم سفارتی مقام فراہم کیا ہے۔ آج عالمی سیاست تیزی سےبدل رہی ہے۔ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں، نئی علاقائی صف بندیاں وجود میں آ رہی ہیں اور دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی کامیابیوں کو اقتصادی فوائد میں بھی تبدیل کرے۔ اگر پاکستان امن کے فروغ، علاقائی رابطوں اور متوازن خارجہ پالیسی کو جاری رکھتا ہے تو نہ صرف اس کی عالمی اہمیت بڑھے گی بلکہ قومی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی، خلیجی ممالک کا تحمل، اور خطے کو ایک ممکنہ بڑی جنگ سے بچانے کی کوششیں پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ یہ باب اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان جب قومی یکجہتی، واضح وژن اور مؤثر قیادت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ موجودہ قومی قیادت کے دور میں سامنے آنے والی یہ سفارتی کامیابی آنے والے برسوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی کردار کے حوالے سے ایک اہم حوالہ بن سکتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کے پاکستان اسی متوازن راستے پر گامزن رہے، مسلم دنیا کے درمیان اتحاد کو فروغ دے، تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کی حمایت کرے اور ہر اس کوشش کا حصہ بنے جو خطے میں امن، استحکام اور ترقی کا باعث بنے۔ یہی پاکستان کا تاریخی کردار رہا ہے اور یہی اس کا مستقبل بھی ہونا چاہئے۔

تازہ ترین