پردے کے پیچھے کیا ہے؟
اچھے بھلے مذاکرات ہو رہے تھےایران اور امریکہ کے مابین،پھر کیا ہوا کہ ایک مرحلے پر ایرانی وفد نےسوئٹزر لینڈ سے واپس تہران جانے کا عندیہ ظاہرکیاجب کہ ہم پاکستانی اس گمان میں رہے کہ ہم ثالث ہیں۔ مگر کل رات پہلے خبریں آئیں کہ ایرانی وفد تہران واپس جارہا ہے اور وجہ بھی سب کو معلوم ہو گئی کہ صدر ٹرمپ کی زبان اس موقع پر امریکہ میں بیٹھے بیٹھے بے قابو ہو گئی اور وہ یہ تک کہہ گئے’’ اگر ایرانی وفد نے ہماری باتیں نہ مانیں تو شاید انہیں گھر جانا ہی نصیب نہ ہو‘‘اسی دھمکی نے وقتی طور پر امن کی راہ دور کی اور ایرانی وفد نےشدید احتجاج کیا مگر وہ جو اقبال نے کہا تھا
پیوستہ رہ شجر سے ،امیدِ بہار رکھ
سو کویت جو امریکی صدر کو پہلے بھی ایک مرصع و مسجع جہاز تحفے میں دے چکا ہے چار دن پہلے صدر ٹرمپ کو ان کی سال گرہ کا کوئی بیش قیمت تحفہ بھی پیش کر چکا ، اچانک اسے بھی پاکستان کے ساتھ چیف ثالث کا درجہ دے دیا گیا اور یوں رات گئے پاکستان اور کویت کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا کہ امن معاہدہ ہو گیا ہے اور مختلف تکنیکی کمیٹیاں بنادی گئی ہیں آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران کی طرف سے سوائے امریکہ کے باقی ملکوں سے راہداری ٹیکس لینے،امریکی بم باری کے نتیجے میں افزودہ یورینیم کے اور زیادہ گہرائی میں دفن ہونے سے اس کی بازیابی کا عمل ذرا لمبا ہو جائے گا مگر ایران کی تعمیرِ نو کے لئے اس کے منجمد اثاثوں میں سے چھ ارب ڈالر ایرانی ملی بینک میں منتقل کئے جائیں گے اور کل رات سے جو اینکر علامہ اقبال کے ایک مشہور شعر کو غلط پڑھنے کا مذاق اڑا رہے تھے یکلخت ان کی کئی زبانوں پر دسترس کی تعریف کرنے لگے اور تازہ ترین ان کا یہ وصف سامنے آیا کہ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے وزیرِ خارجہ سے جرمن زبان میں بات چیت کی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان،بھارت اور بنگلہ دیش کے معروف لیڈروں کی غیر علانیہ دولت اس ملک کے بینکوں میں دفن ہے،اس کے کچھ کوڈ ممکن ہے جرمن یا فرانسیسی زبان پر دسترس سے ظاہر ہو جائیں۔ ہمارے وزیرِ اعظم سے پہلے ہمارے ایک وزیرِ خارجہ ریٹائرڈ جنرل صاحب زادہ یعقوب علی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ امیر خسرو کی طرح سات زبانیں جانتے ہیں بلکہ پاکستانی اشرافیہ کی قائم کردہ انگلش اسپیکنگ سوسائٹی بنا رکھی تھی کیونکہ اشرافیہ جانتی ہے کہ ان کی بالا دستی ختم ہو سکتی ہے اگر کہیں رعایا کو سمجھ میں آنے والی زبان یا زبانوں کا چلن ہو گیا۔
با خبری کا دعویٰ کرنے والے اس وقت داخلی محاذ پر تین پیش قدمیوں کی بات کر رہے ہیں،ایک گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں بلاول بھٹو کے کردار کی اہمیت کو وہاں کا الیکشن کمیشن اور عدالتِ عالیہ بھی تسلیم کر رہی ہے دوسرے آزاد کشمیر میں بھی پی پی پی اور مسلم لیگ کو لڑانے کی کوشش کرنے والے بھی ہیں اور ان کے مابین مصالحت کی کوشش کرنے والے بھی تاکہ راولا کوٹ یا میر پور یا چکوٹھی یا کوٹلی میں ہڑتالیں کرانے والی کشمیر ایکشن کمیٹی کی فعالیت کو کمزور کیا جا سکے اور بلوچستان میں بھی دھماکوں کو کم کر دیا جائے اگر ختم نہیں ہو سکتے بے شک کوئٹہ سےکراچی جانے والی ساری ٹرینوں کو سردار عطا اللہ مینگل،غوث بخش بزنجو اور سردار اکبر بگٹی کے ناموں سے موسوم کر دیا جائے،سردار خیر بخش مری اور ان کے نام لیوا ایسے کسی انتساب کو پسند نہیں کریں گے البتہ ڈاکٹر شاہ محمد مری کی سنگت یا مست توکلی کے کلام سے کوئی ٹرین منسوب کی جا سکتی ہے اور گوادر کے ماہی گیروں کے مسائل کو ہمدردی سے سمجھنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم نے سابق سپیکر اسد قیصر اور اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کو پیش کش کی ہے کہ اپنے لیڈر سے ملاقات یا کچھ طبی سہولتیں دینے کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں کچھ بامعنی ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔اب میں کوئی نامور صحافی تو ہوں نہیں کہ پردے کے پیچھے بھی دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے یا اقتدار کی غلام گردشوں میں کوئی بامعنی سرگوشی کر دے ہم جیسے تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ ملک میں آئندہ برس انتخابات سے پہلے کوئی متفق علیہ الیکشن کمیشن بن جائے،تحریکِ انصاف سے وابستہ بزرگ خواتین و حضرات کو رہا کر دیا جائے محترمہ بشریٰ بی بی کو پاکپتن کے بابا فرید گنج شکر کے عرس میں شرکت کی اجازت دی جائے اوروہ عمران خان کو بھی وہاں آج اور کل میں کھلنے والے بہشتی دروازے میں سے گزاریں۔ ہمارے خان صاحب کی بہنوں کے جذبات کو بیرسٹر گوہر بہتر سمجھتے ہیں اور معقول باتیں کرتے ہیں شاید انہوں نے ہی خیبر پختون خوا کی حکومت کو قائل کیا کہ وہ تین ماہ کی بجائے پورے مالیاتی برس کا بجٹ پیش کرے۔ اس جماعت کے لیڈروں کو بعض پرانے کیسوں میں سزائیں سنائی جا رہی ہیں ان کی اپیل کو بھی جلد سنا جانا چاہئے۔اس پس منظر میں شاہ محمود قریشی کی کچھ کیسوں میں بریّت پر شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہئیں ممکن ہے خان صاحب اگر ملک سے باہر جانے کا فیصلہ کریں تو انہیں ہی اپنا جانشیں بنا دیں۔ابھی قومی زبان کراچی کا تازہ شمارہ ڈاک سے ملا ہے اس میں ایک مضمون نگار نے رئیس فروغ کے کچھ شعر درج کئے ہیں جس میں کراچی،جیکب آباد اور ملتان میں پڑنے والی گرمی کے خلاف مزاحمت کا ایک طریقہ بتایا گیا ہے۔
سخت برہم تھیں ہوائیں
پھر بھی ریت پر پھول بنائے میں نے
دھوپ نے اور جلایا تو فروغ
اور کچھ پیڑ لگائے میَں نے