• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سر کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کے بعد برطانوی سیاست میں ہلچل

لندن: برطانیہ کی سیاست میں ڈرامائی موڑ آ گیا، وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔ ان کے فیصلے نے نہ صرف حکومتی حلقوں بلکہ پورے ملک میں سیاسی بحث کا نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ایک جذباتی خطاب کے دوران سر کیئر اسٹارمر نے اعتراف کیا کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے خود کو بہترین انتخاب نہیں سمجھتے۔ اپنے فیصلے سے شاہ چارلس کو بھی آگاہ کر چکے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اعلان کے بعد لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی دوڑ شروع ہونے کا امکان ہے۔ پارٹی کی جانب سے امیدواروں کی نامزدگی 9 جولائی سے شروع ہوگی جبکہ 16 جولائی تک انتخابی عمل کا اہم مرحلہ مکمل کر لیا جائے گا۔

سر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ نئے رہنما کے انتخاب تک وہ وزیرِ اعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور اقتدار کی منظم منتقلی کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے اپنے جانشین کو مکمل تعاون اور غیر مشروط حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

اپنے الوداعی خطاب میں سر کیئر اسٹارمر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ ان کی آواز بھرّا گئی جب انہوں نے اپنی اہلیہ وکٹوریہ اور بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم کردار، یعنی ایک بہتر شوہر اور والد بننے پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

ان کے استعفے کے اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر قیادت کی تبدیلی طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل ہو جاتی ہے تو 2016 کے بعد برطانیہ کو اپنا ساتواں وزیرِ اعظم مل جائے گا، جو ملکی سیاسی تاریخ کا ایک اور اہم باب ثابت ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی منتقلی نسبتاً ہموار ہو سکتی ہے۔ پارٹی کے متعدد ارکان اور رہنماؤں کا خیال ہے کہ اینڈی برنہم اسٹارمر کے جانشین کے طور پر واحد مضبوط امیدوار بن کر سامنے آ سکتے ہیں، جس کے باعث قیادت کے لیے باقاعدہ مقابلے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

ذرائع کے مطابق ایسی صورت میں اینڈی برنہم ستمبر کے آخر تک، ممکنہ طور پر لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے دوران، پارٹی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ تاہم برنہم کے بعض حامیوں کا مؤقف ہے کہ قیادت کی منتقلی کا عمل اس سے پہلے مکمل ہونا چاہیے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید