امریکا کی ایران پر پابندیوں کی طویل تاریخ ہے، 1979ء سے شروع ہونے والا سلسلہ رواں سال ایران اسرائیل اور امریکی جنگ کے باعث بھی جاری ہے۔
1979ء
ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنایا، اس واقعے کے بعد امریکا نے ایران پر پہلی بار پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایرانی درآمدات پر پابندی لگائی اور تقریباً 12 ارب ڈالرز کے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔
امریکا نے ایران کو باضابطہ طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دے دیا، جس کے بعد تہران پر مزید اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئیں۔
امریکی کانگریس نے ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی تھی، تاہم یورپی ممالک کی مخالفت کے باعث اس قانون پر مکمل عملدرآمد کئی برس تک نہ ہو سکا۔
اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایران کے یورینیئم افزودگی پروگرام کو روکنے میں ناکامی پر پہلی مرتبہ پابندیاں عائد کیں، بعد ازاں جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے مزید سخت پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔
امریکا نے 1996ء کے قانون پر مکمل عملدرآمد شروع کیا اور ایران کے توانائی کے شعبے سے وابستہ غیر ملکی کمپنیوں پر دباؤ بڑھا دیا۔
امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندیاں عائد کیں، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محدود کرنے کے اقدامات کیے، اسی دوران یورپین یونین نے بھی ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تاریخی جوہری معاہدہ (JCPOA) طے پایا، معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کیں جبکہ امریکا اور یورپی ممالک نے اقتصادی پابندیوں میں نمایاں نرمی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو JCPOA سے الگ کرنے کا اعلان کیا اور ایران کے تیل، بینکاری اور مالیاتی شعبوں پر نئی اور سخت پابندیاں نافذ کر دیں۔
وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا، نئی پابندیوں میں ان غیر ملکی کمپنیوں اور اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھتے تھے، جن میں چینی ریفائنریز، شپنگ کمپنیاں اور ایرانی تیل خریدنے والے دیگر بین الاقوامی ادارے شامل تھے۔
رواں سال ایران اور امریکا کے درمیان نئے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 روزہ محدود رعایت (ویور) جاری کی، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ معاہدے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔