• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے ایران پر کب کب اور کیوں پابندیاں لگائیں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکا کی ایران پر پابندیوں کی طویل تاریخ ہے، 1979ء سے شروع ہونے والا سلسلہ رواں سال ایران اسرائیل اور امریکی جنگ کے باعث بھی جاری ہے۔

1979ء

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنایا، اس واقعے کے بعد امریکا نے ایران پر پہلی بار پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایرانی درآمدات پر پابندی لگائی اور تقریباً 12 ارب ڈالرز کے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔

1984ء

امریکا نے ایران کو باضابطہ طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دے دیا، جس کے بعد تہران پر مزید اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئیں۔

1996ء

امریکی کانگریس نے ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی تھی، تاہم یورپی ممالک کی مخالفت کے باعث اس قانون پر مکمل عملدرآمد کئی برس تک نہ ہو سکا۔

2006ء

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایران کے یورینیئم افزودگی پروگرام کو روکنے میں ناکامی پر پہلی مرتبہ پابندیاں عائد کیں، بعد ازاں جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے مزید سخت پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔

2010ء

امریکا نے 1996ء کے قانون پر مکمل عملدرآمد شروع کیا اور ایران کے توانائی کے شعبے سے وابستہ غیر ملکی کمپنیوں پر دباؤ بڑھا دیا۔

2012ء

امریکا نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندیاں عائد کیں، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محدود کرنے کے اقدامات کیے، اسی دوران یورپین یونین نے بھی ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔

2015ء

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تاریخی جوہری معاہدہ (JCPOA) طے پایا، معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کیں جبکہ امریکا اور یورپی ممالک نے اقتصادی پابندیوں میں نمایاں نرمی کی۔

2018ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو JCPOA سے الگ کرنے کا اعلان کیا اور ایران کے تیل، بینکاری اور مالیاتی شعبوں پر نئی اور سخت پابندیاں نافذ کر دیں۔

2025ء

وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا، نئی پابندیوں میں ان غیر ملکی کمپنیوں اور اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھتے تھے، جن میں چینی ریفائنریز، شپنگ کمپنیاں اور ایرانی تیل خریدنے والے دیگر بین الاقوامی ادارے شامل تھے۔

رواں سال ایران اور امریکا کے درمیان نئے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 روزہ محدود رعایت (ویور) جاری کی، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ معاہدے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید