قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہاٹ لائن انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہاٹ لائن کا مقصد غلط معلومات اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، بعض عناصر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ جہازوں کو ملنے والی کسی بھی دھمکی کی ایران سے تصدیق کی جائے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا ہے کہ قطر آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے کسی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کوئی مجوزہ ماڈل پیش کرتا ہے تو اسے اس کے حق میں دلائل دینا ہوں گے، جبکہ قطر اس مجوزہ ماڈل کا جائزہ لے گا۔
قطری وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابلِ قبول نہیں ہو گا، آئندہ 30 دنوں میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ قطر چند ہفتوں میں ایل این جی کی پیداوار معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم یہ آبنائے ہرمز میں صورتِ حال کے معمول پر آنے سے مشروط ہو گا۔