پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم مثبت انداز میں مسائل کا حل نکالنا چاہتے ہیں تاہم کابینہ کے چند اراکین کام میں خلل ڈالتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے آزاد کشمیر کے معاملے پر آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وزیرِ اعظم کو اپنی ٹیم کو کنٹرول کرنا چاہیے، معاملے کے حل کے لیے ہمیں مولانا فضل الرحمٰن کو اسپیس دینی چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو آزاد کشمیر میں بحران کا سیاسی حل نکالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا وزیر کابینہ میں موجود کیوں ہے جو راولاکوٹ کے کشمیریوں کو کشمیری نہ سمجھے؟
انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف نے خواجہ آصف کو اپنی بات واپس لینے کا موقع دیا، مگر وزیرِ دفاع معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر کوئی وزیر کہے کہ ہم جیب میں 12سیٹیں لے کر آتے ہیں تو کیسے اس کا ساتھ دیں۔
’وزیرِ اعظم پاکستان کامیاب ہوں گے تو پاکستان کامیاب ہوگا‘
انہوں نے کہا کہ ہم وزیرِ اعظم کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، وزیرِ اعظم پاکستان کامیاب ہوں گے تو پاکستان کامیاب ہو گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی کے دوستوں کو بتاتا ہوں کہ آپ کے مسائل پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں، کابینہ میں بیٹھے آپ کے ارکان کے ساتھ ہیں، آپ کے کابینہ میں بیٹھے دوست آپ سے غلط بیانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں جو معاہدہ ہوا تھا اس میں آڑے خود ایم کیو ایم کے وزراء آئے، آپ کو لالی پاپ مل رہا ہے، آپ اگر سمجھتے ہیں کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہوتے تو آپ حکومت چھوڑ دیں۔
پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ
بلاول بھٹو نے پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو بلدیاتی الیکشن سے خوف ہے، آپ آئین کی بات کرتے ہیں، ترامیم کرتے ہیں مگر اسلام آباد میں بھی بلدیاتی نظام نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ اسلام آباد کابلدیاتی نظام ایسا لائیں تاکہ ہمیں رشک ہو، اسلام آباد کا میئر زیادہ با اختیار ہو۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حکومت بن چکی، 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔