6؍ اگست 1990کو سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو بڑی پر اعتماد تھیں کیونکہ چند ماہ پہلے ہی انہوں نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو شکست دی تھی مگر وہ اس بات سے بے خبر تھیں کہ جمہوری فیصلوں کو کس طرح غیر جمہوری فیصلوں سے بدل دیا جاتا ہے۔ وہ اس صبح پر اعتماد انداز میں وزیر اعظم ہائوس آئیں تو صبح کے ایک انگریزی اخبار میں ہیڈ لائن اسٹوری اسکے برخلاف تھی اور انکی ممکنہ برطرفی کے حوالے سے تھی۔ بی بی خاصی برہم تھیں اور انہوں نے سب سے پہلے ایوان صدر فون کر کے سابق صدرغلام اسحاق خان مرحوم سے بات کی تو انہوں نے خبر کی تردید کی اوراسے گمراہ کن قرار دیا ،دیگر اہم ذرائع نے بھی خبر سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ مگر چند گھنٹے بعد ہی خبر کی تصدیق ہوگئی اور خود صدر نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق کے دور کے نافذ کردہ 58-2(B) کے تحت وزیراعظم کو برطرف اور قومی اسمبلی کو توڑنے اور 90ر وز میں انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔
چونکہ بی بی کی یہ پہلی حکومت تھی تو ان کو اندازہ ہی نہ تھا کہ کسی حکومت کے جانے کے ’اشارے‘ کیا ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ 1988 میں جب انہوں نے مشروط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تو وہ حکومت مضبوط ہوگی مگر چند ماہ بعد ہی ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور پھر 18 ماہ میں حکومت کا خاتمہ۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب 9؍ اگست 1990کو انہوں نے بلاول ہائوس میں پریس کانفرنس میں نہ صرف براہ راست ایک وفاقی سیکورٹی ایجنسی پر الزام عائد کیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کس طرح اخبارات میں ان کیخلاف ’خبریں‘ لگواتے تھے۔ بعد میں ایک ملاقات کے دوران میں نے کہا، بی بی آپ کو 1988کے الیکشن کے وقت ہی اندازہ ہوجانا چاہئے تھا، جب IJI بنائی گئی تھی۔
اشارے خود بتا دیتے ہیں کہ آگے کون سا راستہ ہے خاص طور پر ہماری سیاست میں کیونکہ اس ملک میں آج تک کسی وزیراعظم نے پانچ سال حکومت کرنے کا ریکارڈ قائم نہیں کیا البتہ منتخب صدر کا ریکارڈ آصف زرداری صاحب کا ہے اور بظاہر ان کی دوسری مدت پوری ہونے میں بھی بادی النظر میں نہ کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے نہ ہی کوئی اشارے ملتے ہیں۔ ویسے تو اگر کوئی بڑا بھونچال نہ آئے تو یہ ریکارڈ وزیراعظم شہباز شریف کے حصے میں بھی آسکتا ہے۔ تاہم جیسا کہ اوپر دی جانیوالی مثال سے لگتا ہےکہ جب آپ پورے اعتماد کیساتھ چل رہے ہوتے ہیں تو اچانک کوئی سیاسی حادثہ رونما ہوجاتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی سندھ کے حوالے سے ایسی خبریں گردش کررہی تھیں جیسے سندھ میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آنیوالی ہے یہاں تک کہ کچھ صحافیوں نے ممکنہ وزیراعلیٰ کے نام بھی مارکیٹ میں دینے شروع کر دیئے۔ عین ممکن ہے کچھ نے شیروانی سلوا بھی لی ہو مگر پھر اچانک ایک’ ٹھیکیدار‘ کے لاپتہ اور پھر گرفتار ہونے کی خبر آئی اور ساری خبروں نے دم توڑ دیا۔
عام طور پر یا روایتی طور پر کسی حکومت یا وزیر اعظم کے جانے کے اشارے کیا ہوتے ہیں یا ہمارے ملک میں رہے ہیں۔(1)حکومت کیخلاف خبروں اور تبصروں کا سلسلہ خاص طور پر مبینہ کرپشن کی کہانیاں۔(2) اپوزیشن میں اچانک جان پڑ جانا کسی نئے یا وسیع تر اتحاد کا وجود میں آنا اور پھر تحریک کا چلنا کسی لانگ مارچ یا اسلام آباد دھرنے کی صورت میں۔(3)حکومتی اتحاد میں دراڑ پڑنا اور کسی اتحادی کا الگ ہوجانا ۔(4) اعلیٰ عدلیہ کا اچانک متحرک ہونا اپوزیشن کے حق میں یا حکومت کیخلاف فیصلوں کا سلسلہ شروع ہونا، اور آخری پانچویں بات جو سب سے اہم ہے۔ وزیر اعظم اور مقتدرہ میں اختلاف کی خبریں آنا۔ بظاہر ما سوائے چند خبروں اور تبصروں کے ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔
اب بادی النظر میں چند ایک علامتوں کے باوجود مجھے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو کوئی بڑا خطرہ محسوس نہیں ہورہا بلکہ مقتدرہ اور سب سے بڑی اپوزیشن کے لیڈر اور بانی پی ٹی آئی عمران خان میں نہ صرف کشیدگی برقرار ہے بلکہ بعض معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ علامات ہیں جو حکومت اور حکمران جماعت کے حق میں جاتی ہیں ۔ صحیح یا غلط بانی پی ٹی آئی کے رویے میں بظاہر کوئی بڑی لچک نظر نہیں آتی خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے حوالے سے۔ اب اگر ایسا ہے تو یہ حکمرانوں کے نقطہ ٔ نظر سے اچھی خبر ہے۔
البتہ دوسری طرف یہ سوچ ضرور پائی جاتی ہے کہ اپریل 2022سے ابتک خاص طور پر 8 فروری 2024کے متنازع الیکشن کے بعد پچھلے دو سال میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی بے انتہا محنت، کوششوں کے باوجود آج بھی مسلم لیگ (ن) پُر اعتماد نہیں کہ وہ ممکنہ بلدیاتی الیکشن میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے اور خود بقول مسلم لیگ(ن) کے چند اہم رہنمائوں کے ابھی تک پارٹی نہ متحرک کی گئی ہے نہ ہوئی ہے۔ بلدیاتی نظام میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور کونسلر کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر مگر ممبر اور ناظمین کے جماعتی بنیادوں پر۔ اب اس ’مکس پلیٹ‘ کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ’ہارس ٹریڈنگ‘ کیا ہوتی ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی نظام کی ہی پیداوار ہے اور اسکو شائد یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر ان چند سالوں میں پاکستان تحریک انصاف کا ووٹ بینک اپنی جگہ قائم ہے البتہ تنظیمی اور جماعتی لحاظ سے پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
ہمارے کچھ صحافی دوستوں کا خیال ہے کہ کسی حلقے میں سیاسی یا غیر سیاسی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بوجھ نہیں جبکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ دبائو بہرحال محسوس کیا جا رہا ہے کہ آخر کب تک معاملہ فارم 47 - کے تحت ہی چلایا جائے لیکن یہ مشروط ہے اپوزیشن کے رویے پر۔
سیاست ممکنات کا کھیل ہے تجربات کا نہیں۔ ہم بدقسمتی سے تجربات کے عادی ہیں جمہوری انداز میں تبدیلی کے نہیں شائد اسی لیے اگر دو حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری بھی کی ہے 78 برسوں میں تو اس میں بھی دو وزیراعظم کا تجربہ کیا گیا۔ 2008 میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف اور 2013میں نواز شریف اور شاہد خاقان اور 2018میں عمران خان اور شہباز شریف ۔ البتہ عمران اور شہباز شریف کا معاملہ مختلف تھا۔ اب اگر وزیر اعظم خود یہ کہتے ہیں کہ اگر 2018کے نتائج درست تھے تو 2024 کی حکومت بھی درست ہے ۔ اب یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر دونوں ہی غلط تھے تو ایک آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کرا کے جمہوریت کوایک موقع تو دیں۔ 1977 سے آج تک ہم کبھی غیرجماعتی نظام کی طرف جاتے ہیں تو کبھی ہائبرڈ کی طرف۔