دشت کے سانحے کی وہ تصویر دیر تک میرے سامنے ٹھہری رہی۔ ایک زخمی عورت، دو ننھی بچیاں اور خاموشی۔ عجیب بات ہے کہ بعض تصویریں بولتی نہیں، پھر بھی ان کا شور بہت دور تک سنائی دیتا ہے۔ اس تصویر میں کوئی چیخ نہیں تھی، مگر اسکی خاموشی میں صدیوں کا نوحہ پوشیدہ تھا۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس عورت کی آنکھیں کسی ایک شخص کو نہیں، پورے عہد کو مخاطب کر رہی ہوں۔ وہ شاید پوچھ رہی تھی کہ آخر سفر کب سے اتنابے آسرا ہو گیا کہ منزل تک پہنچنے سے پہلے موت نے راستے میں اپنا گھر بنا لیا؟کہتے ہیں زمین اپنے اوپر سےگزرنے والوں کے قدموں کی چاپ سنبھال کر رکھتی ہے۔ اسی لیے بعض راستے صرف مٹی کے راستے نہیں رہتے، وہ زمانوں کی یادداشت بن جاتے ہیں۔ انہی پر کبھی قافلے گزرتے تھے، گرد اٹھتی تھی، اونٹوں کی گھنٹیاں بجتی تھیں، سراؤں کے چراغ جلتے تھے اور اجنبی ایک دوسرے کے آشنا ہو جایا کرتے تھے۔ سفر اس زمانے میں محض ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام نہ تھا، وہ اعتماد کا دوسرانام تھا۔ مسافر جانتا تھا کہ راستہ اگر طویل بھی ہے تو بے وفا نہیں۔ مگر معلوم نہیں تاریخ کے کس موڑ پر راستوں نے اپنا عہد توڑ دیا؟ یا شاید راستوں پر بسنے والے غیورلوگ راستوں سے وفا نبھانا چھوڑ گئے کہ ہر گزرتا مسافر انکی مہمان نوازی کا گرویدہ ہوتا تھا مگر اب سفر کا پہلا احساس شوق نہیں، اندیشہ ہے۔ بلوچستان کی سنگلاخ زمین نے بھی صدیوں کے قافلے دیکھے ہیں۔ اسکے پہاڑوں نے تاجروں کی صدائیں بھی سنی ہیں، درویشوں کی دعائیں بھی، اور ان لوگوں کے قدموں کی چاپ بھی جو ایک بستی سے دوسری بستی امید لے کر نکلتے تھے۔ مگر اب انہی راستوں پر ایک اور کہانی لکھی جا رہی ہے۔ ایسی کہانی جس میں گرد تو پہلے کی طرح اڑتی ہے، مگر اس گرد میں اب بارود کی بو بھی شامل ہو گئی ہے۔یہ خاندان راستہ معلوم کرنےکیلئے گوگل میپ کی رہنمائی پر چل رہا تھا۔ کسی نے کہا، نقشے نے غلط راستہ دکھا دیا۔ مگر نقشے کب سے تقدیر لکھنے لگے؟ وہ تو صرف زمین پرکھنچی ہوئی لکیریں دکھاتے ہیں۔ ان لکیروں کے درمیان امن ہوگا یا کمین گاہ، یہ فیصلہ کسی سافٹ ویئر کا نہیں، ان کا ہوتا ہے جنکے سپرد ریاست کی امانت ہوتی ہے۔ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں خبریں پیدا بھی جلد ہوتی ہیں اور دفن بھی جلد ہو جاتی ہیں۔ہر سانحہ چند روز کی سرخی بنتاہے، پھر ایک نئی خبر آ کر اسے ڈھانپ دیتی ہے۔
مگر کچھ تصویریں ایسی ہوتی ہیں جو اخبار کے صفحے سے اتر کر حافظے کے کسی تاریک گوشے میںہمیشہ کیلئے ٹھہر جاتی ہیں۔ دشت کی یہ تصویر بھی شاید انہی میں سے ایک ہے۔ وقت گزر جائیگا، تاریخ آگے بڑھ جائے گی، مگر یہ تصویر اپنے سوال کے ساتھ باقی رہے گی۔ہم برسوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں کارروائی کامیاب رہی، فلاں گروہ ختم کر دیا گیا، فلاں منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ یہ سب ضروری خبریں ہیں، مگر ان دو بچیوں کی دنیا میں ان خبروں کی کیاحیثیت ہے؟ ان کیلئے تو پوری دنیا ایک ہی لمحے میں بدل گئی۔ ان کیلئے تاریخ کی تمام فتوحات اس ایک حقیقت کے سامنے بے معنی ہیں کہ باپ کا سایہ ہمیشہ کیلئے ان کے سروں سے اٹھ گیا۔ پھر میں سوچتا ہوں، شاید مسئلہ صرف دہشت گردی کا نہیں، یادداشت کا بھی ہے۔ ہم سانحات کو یاد نہیں رکھتے، صرف ان کی تاریخیں یاد رکھتے ہیں۔ ہم خون کے دھبے خشک ہونے کا انتظار کرتے ہیں، پھر ان پر نئی گرد جم جانے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کہانی ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر کا حال بھی عجیب ہے۔ کچھ دکھ ہمیں بے قرار کر دیتے ہیں، کچھ دکھوں کے سامنے ہم خاموش رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک خاتون کو عمر قید کی سزا سنائے جانےکے بعد اس کے معاملے پر بحث کا طوفان اٹھا، اسکی ہمدردی اس وقت سے جاری تھی جب وہ دہشت گردی کرتے افراد کو لا پتہ قرار دینے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی اور اپنے آپ کو دانشور ، انسانی حقوق کا چيمپین قرار دینے کے شوقین اس کے دھرنوں کو رونق بخش رہے تھے اور اب اسکی بہن کے ذریعے بھی مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ عورت کارڈ استعمال کرنا ہے ۔ مگر ان دانشوروں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیںکہ دشت میں رزق خاک ہوتا خون اوراس عورت کی خاموشی بھی تو اسی سرزمین کی آواز ہے۔ جب ہمارے پیمانے صرف نام وری کیلئے ہو جائیں تو پھر انصاف بھی آہستہ آہستہ اپنی معنویت کھونے لگتا ہے۔ریاست آخر کیا ہے؟ ایک ایسا وعدہ کہ مسافر بے خوف سفر کرئیگا، بچہ شام کو اپنے باپ کی واپسی کا انتظار کرے گا، اور ماں کی دُعا راستے ہی میں یتیم نہیں ہو جائیگی۔ اگر یہ وعدہ بار بار ٹوٹنے لگے تو صرف راستے ویران نہیں ہوتے، قوموں کی روح بھی تھکنے لگتی ہے۔دشت کی وہ تصویر اب بھی وہیں کھڑی ہے؛ وقت کے کنارے پر، خاموش، خون آلود اورسراپا سوال ۔ شاید آنیوالے برسوں میں لوگ اس واقعے کی تفصیلات بھول جائیں، مگر اس عورت کی آنکھیں نہیں بھولیں گے۔ وہ آنکھیں جو آج بھی پوچھ رہی ہیں کہ کیا اس سرزمین کے راستے کبھی پھر اتنے مہربان ہوں گے کہ مسافر منزل کی خبر لے کر نکلے اور راستے اسے موت نہیں، زندگی کی طرف لے جائیں؟