• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

78سال سے جموں و کشمیر کے دونوں اطراف ’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ کا نعرہ پوری قوت سے گونج رہا ہے۔ سید علی گیلانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں عظیم پاکستانی کی حیثیت سے زندہ رہے اور پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر آسودہ خاک کیے گئے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی تھی جنہوں نے’’نظریہ الحاق پاکستان ‘‘کو ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے میں تبدیل کر دیا۔آزاد و مقبوضہ کشمیر کے بارے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیرکے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں لیکن کشمیر کے دونوں اطراف سید علی گیلانی ، سردار محمد عبدالقیوم خان جیسی عظیم ہستیوں کی زندگی میں ’’خود مختار کشمیر ‘‘کا نعرہ لگانے والوں کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں ملا بھارت نے نظریہ الحاق پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے ہمیشہ درپردہ خود مختار کشمیر کے حامیوں کی پشت پناہی کی ہے۔ قیام پاکستان سےقبل ہی مسلم کانفرنس نظریہ الحاق پاکستان کی حامی تھی 19جولائی1947ء کو سرینگر میں منعقدہ مسلم کانفرنس کے اجلاس میں الحاق پاکستان کی قرار دادمنظور کی گئی یہ اجلاس قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ کے گھرمنعقد ہوا جبکہ اس کے صدر سردار غلام عباس سرینگر جیل میں تھے۔سردار محمد ابراہیم الحاق پاکستان کے بڑے حامی تھے سردار محمد عبدالقیوم خان نے اس نظریہ الحاق پاکستان کو الحاق پاکستان ایکٹ میں تبدیل کیا جسکے تحت تمام سرکاری عمارات، تعلیمی اداروں اور اسٹیشنری پر ’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ لکھنا لازمی قرار دیا گیا سرکاری ملازمت اختیار کرنیوالوں کو الحاق پاکستان کا حلف لینے کاپابند بنایا گیا آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ہر رکن کو نظریہ الحاق پاکستان پر حلف اٹھانے کا پابند بنایا گیا ۔جب مسلم کانفرنس کی کوکھ سے مسلم لیگ (ن) نے جنم لیا نظریہ الحاق پاکستان کی حامی قوتیں منقسم ہو گئیں اور الحاق پاکستان کی قوتوں کا ووٹ بینک فیصلہ کن پوزیشن میں نہ رہا، پیپلزپارٹی آزاد جمو ںوکشمیر، پاکستان پیپلز پارٹی ، لبریشن فرنٹ ، جمعیت علما اسلام اور تحریک انصاف پاکستان الگ گروپوں میںتقسیم ہونےکی وجہ سے خود مختار کشمیر کے حامیوں نےسر اٹھایا، حال ہی میں عوامی مسائل کے حل کیلئے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا توآزاد جموں و کشمیرکا سیاسی ماحول تبدیل ہو گیا ایسا دکھائی دینے لگا کہ آزاد جموں کشمیر کا سیاسی ماحول غیر سیاسی قوتوںکےہاتھ میںچلاگیاہے۔کمال ہو شیاری سے عوامی ایکشن کمیٹی کے38مطالبات میںایسے مطالبات شامل کر دئیے گئے جو نہ صرف الحاق پاکستان کے نظریہ کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ کشمیر بارے پاکستان اصولی موقف کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جمو ںو کشمیر کی12نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرکے مسئلہ کشمیر کی اساس کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آزاد جموں کشمیرمیں ’’خود مختار کشمیر ‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کی تعداد گنتی کے لوگوں پر مشتمل ہے انکے اس نعرے کو کبھی آزاد جموں کشمیر کے عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی لیکن کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایجی ٹیشن میں اس نعرے کے حامیوںکو نمایاں پوزیشن حاصل ہو گئی ہے۔جموں وکشمیر مسلم کانفرنس الحاق پاکستان کے نظریہ کی علمبر دار ہے 13جولائی1931ء کو سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے22مسلمان کشمیری ڈوگرہ پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے اس سانحہ کی کوکھ سے تحریک نے جنم لیا ،شیخ عبداللہ کی سربراہی میں مسلم کانفرنس قائم ہوئی،شیخ عبداللہ کانگریس کے نیشنلزم کے سراب کے اسیر ہو گئے اور 1939ء میں مسلم کانفرنس کا نام نیشنل کانفرنس رکھ دیا گیا 1940ء میں قراداد پاکستان منظور ہونے کے بعدشیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس کی راہیں جدا ہو گئیں۔قائد اعظم نے 26جون 1944کو چوہدری غلام عباس کوکشمیری مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیا۔ کشمیری مسلمانوں نے 23 اگست 1947ء کو 23سالہ نوجوان سردار محمد عبدالقیوم خان کی قیادت میں ڈوگرہ راج کیخلاف علم بغاوت اٹھایا اورکشمیر اور شمالی علاقہ جات کا32ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرالیا ۔ جولائی کا مہینہ ہمیں شہدائے کشمیر کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے پاکستان سے الحاق کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔

’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ ایک تاریخی ، سیاسی نعرہ ہے جوکشمیر کے دونوں اطراف پاکستان سے الحاق اور حق خود ارادیت کی جدو جہد کی عکاسی کرتا ہے۔2006ء میں میری منیٰ میں رابطہ عالم اسلامی کے مرکز میں سید علی گیلانی سے ملاقات ہوئی تو مجھے انکی پاکستانیت نے بے پنا ہ متاثر کیا وہ برملا کہتے کہ’’ وہ پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘ انہوں نے پاکستانی پرچم میںآسودہ خاک ہونا پسند کیا لیکن سید علی گیلانی اور سردار محمد عبدالقیوم کے نام پر چلائی جانیوالی تحریک میں ناخوشگوار واقعات پیش آئے پاکستان کا پرچم اتارنے کا واقعہ پیش آیا،اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے چلائی جانے والی تحریک پاکستان کے خلاف نہیں لیکن یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ بعض رہنمائوں کی تقاریر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے سے متصادم ہیں اور کالعدم کمیٹی کے اجتماعات میں پاکستانی پرچم نظر نہیں آتا ۔ بیرون ملک خود مختار کشمیر کے حامیوں کے ہاتھ میں تحریک آگئی ہے اس تحریک میں مقبوضہ کشمیر میں خود مختار کشمیر کے حامی بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں

کالعدم ایکشن کمیٹی کو راولا کوٹ کے قریب دھرنا دئیے ایک ماہ ہونے کو ہےاس دوران بدمزگی کے ایک واقعہ میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہے دھرنے میں روزانہ حکومت پاکستان و آزاد کشمیر کے خلاف تقاریر ہوتی ہیں تاحال فورسز نے دھرنے کے شرکاء کو مظفر آباد کی جانب بڑھنے سے روک رکھا ہے حکومت پاکستان و آزاد کشمیر کالعدم عوامی تحریک کی قیادت سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہوئی اور نہ ہی پا رلیمنٹ میں اپوزیشن مفاہمت کرانے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ جمعیت علما اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمنٰ جو دوبار کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں کی دھرنا ختم کرنے کی شرط کو کالعدم عوامی کمیٹی نے پذیرائی نہیںبخشی جسکے باعث وہ بھی کوئی رول ادا نہ کر سکے دوسری طرف آزاد جموں کشمیر میں انتخابی عمل جاری ہے پولنگ کیلئے 27جولائی 2026ء کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اس دوران انتخابی عمل کو رکوانےکیلئے کالعدم عوامی کمیٹی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایجی ٹیشن کے باوجود 2ہزار سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں لہٰذا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کیلئے انتخابی عمل کو رکوانامشکل نظر آتا ہے۔

تازہ ترین