• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماضی قریب میں کئی سیاستدانوں کا مستقبل ان کے بچوں کی وجہ سے تاریک ہوگیا یا پھر انہیں شرمندگی و خجالت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی مثال لے لیں۔ انکے بیٹے ہنٹر بائیڈن کئی اسکینڈلز کی وجہ سے خبروں میں رہے۔ ستمبر2024ء میں 54سالہ ہنٹر بائیڈن پر امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں 1.4ملین ڈالر ٹیکس چوری کے الزامات ثابت ہوگئے۔ اس معاملے نے تب مضحکہ خیز موڑ لیا جب اسی سال دسمبر میں جوبائیڈن نے بطور صدر اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو معاف کر دیا۔ بیٹے کی ایسی حرکتوں کی وجہ سے جو بائیڈن کو اگلے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے دستبردار ہونا پڑا۔ James Madison جو چوتھے امریکی صدر تھے، انہیں اپنے بیٹے John Payne Todd کی وجہ سے زندگی بھر پریشانیوں کا سامنا رہا کیونکہ انکا سوتیلا بیٹا پرلے درجے کا شرابی اور جواری تھا۔ اسے کئی بار جیل کی ہوا کھانا پڑی اور اسکی وجہ سے سیاسی مخالفین نے امریکی صدرJames Madisonکو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ تھیوڈور روزویلٹ امریکی صدور کی فہرست میں بہت مقبول اور جانا پہچانا نام ہے۔ وہ اپنی بیٹی Alice Roosevelt کے کارناموں سے اس قدر جز بز ہوا کرتے تھے کہ ایک بار انہیں کہنا پڑا ،میں یا تو ملک کو چلا سکتا ہوں یا پھر اپنی بیٹی کو سنبھال سکتا ہوں، یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں کرسکتا۔اسی طرح امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کا دورِ صدارت انکے بیٹے Jimmy Roosevelt کی وجہ سے داغ دار ہوا۔ فرینکلن ڈی روزویلٹ کے بیٹے نے اپنے باپ کا نام ،عہدہ اور اختیارات استعمال کرتے ہوئے انشورنس کا بزنس کیا اور ناجائز طریقے سے دولت کمائی۔ بعدازاں انکے بیٹے پر ایک غیر منافع بخش تنظیم کے ذریعے فراڈ کے الزامات پر انکوائری بھی ہوئی۔ جارج بش سینئر کے چار بیٹے ہیں ان میں سے ایک جارج بش جونیئر بھی امریکی صدر بنے۔ انکے ایک بھائی نیل بش کی وجہ سے پورے خاندان کو پریشانیاں لاحق رہیں۔ نیل بش پر الزام عائد ہواکہ وہ Silverado Banking Savings and Loan Associationکے بورڈ آف ڈائریکٹرز میںشامل ہوئے جو مفادات کے ٹکرائو کی بہترین مثال تھی۔ یہ کمپنی 1988ء میں دیوالیہ ہوگئی جس سے 1.3بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ نیل بش اور دیگر ڈائریکٹرز کیخلاف مقدمہ چلایا گیا جو 49.5ملین ڈالر کی ادائیگی پر آئوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے تحت ختم ہوا۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کوبھی اپنی اولاد کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا رہا۔ انکی بیٹی Patti Davisاپنی باغیانہ اور عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے اخبارات کی زینت بنی رہیں۔ یہاں تک کہ ایک پلے بوائے میگزین میں انکی برہنہ تصاویر شائع ہوئیں تو امریکی صدر کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہے ۔رونالڈ ریگن کی اہلیہ نینسی ریگن نے اپنی بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا لیکن اسکے باوجود معاملات بہتر نہ ہوئے۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ایسی بیشمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ پہلے فوجی حکمران کی کتاب ’’ڈائریز آف فیلڈ مارشل ایوب خان‘‘میں ایک ایسا ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔ایوب خان لکھتے ہیں کہ 31مئی1967ء کو جب وہ بستر پر دراز ہونے لگے تو انکی اہلیہ نے کہا،میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی لیکن ایک نہایت ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے جو آپ کے نوٹس میں لانا ضروری ہے۔ آپ کے چھوٹے بھائی محمد اکرم کے بیٹے احمد نے پسٹل سے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل جبکہ چار کو زخمی کردیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ دراصل ایوب خان کا 16سالہ بھتیجا دوست کیساتھ بذریعہ بس مری جا رہا تھا جب بس کمپنی باغ اسٹاپ پر رُکی اور ایک شخص پانی کی بالٹی لیکر بس دھونے کیلئے آیا تو احمد کے دوست پر کچھ چھینٹے پڑ گئے جس سے لڑائی کا آغاز ہوا۔ ایوب خان نے یہ خبر سنتے ہی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش انکا بھتیجا بھی موقع پر ہی مارا گیا ہوتا ۔ایوب خان لکھتے ہیں کہ ’’یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ بیکار قسم کے رشتہ دار آپ کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں‘‘۔

یہ سب باتیں لاہور کے ایک افسوسناک واقعہ کے تناظر میں یاد آئیں۔دو غیر ملکی خواتین نے چند افراد پر اغوا برائے تاوان اور جبری جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات عائد کئے اور مقدمہ درج ہونے کے بعد جن ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا نواسہ بھی شامل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے بہنوئی اور مشیر علی ڈار اور انکے والد اسحاق ڈار کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بلاشبہ دونوں باپ ،بیٹا یعنی اسحاق ڈار اور علی ڈار اجلے کردار کے حامل ہیں اور ماضی میں بدترین سیاسی مخالفین کی طرف سے بھی اس نوعیت کے الزامات عائد نہیں کئے گئے ۔یہ دلیل بھی موزوں اور موثر ہے کہ بالغ بچوں کی کسی نازیبا حرکت پر والدین یا پھر نانا اوردادا کومورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ اولاد آپ کی سرمایہ کاری ہوتی ہے ،آپ لاتعلقی کا اعلان کرکے بھی جان نہیں چھڑا سکتے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ کے اقتدار، اختیار اور سماجی حیثیت و مرتبے کی وجہ سے انہیں شہ ملتی ہے ،وہ طاقت میسر آتی ہے جس سے جرم سرزد ہوتا ہے ۔کرپٹو کرنسی میں ڈالر ڈوبے تھے مگر رضا ڈار نے رقم نکلوانے کیلئے اپنے خاندان کی عزت ،شہرت اور ساکھ ڈبودی۔آپ جتنی مرضی توجیہات پیش کریں ،جتنی وضاحتیں اور صفائیاں دیتے رہیں، چیختے چلاتے رہیں کہ یہ کاروباری لین دین کا معاملہ تھا ،عوام آپ کو ہی قصور وار سمجھیں گے اور اس واقعہ کے بہت دوررس اثرات مرتب ہونگے۔ بالخصوص کسی بھی وجہ سے ملزم سخت سزائوں سے بچ نکلتے ہیں یا پھر بری ہوجاتے ہیں تو اسکی سیاسی قیمت چکانا پڑیگی کیونکہ لوگ تو پہلے ہی سوال اُٹھا رہے ہیں کہ جب عام ملزموں کیساتھ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ موقع پر ہی انصاف کرتا ہے تو اب نیفے میں پستول کیوں نہیں چلا؟

تازہ ترین