• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیٹو اجلاس سے پہلے ٹرمپ کا میلونی پر نیا طنز، تنازع مزید شدت اختیار کر گیا

—تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس سے قبل اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے خلاف ایک اور متنازع پوسٹ شیئر کر کے دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی جس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ جارجیا میلونی ان میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہیں۔

تصویر کے ساتھ صدر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ مجھے میلونی کے خلاف ’پابندی کا حکم‘ (کسی شخص سے دور رہنے کا حکم) درکار ہے۔

یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں رہنما ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ شریک ہونے والے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گروپ آف7 اجلاس سمٹ (جی سیون) کے دوران جارجیا میلونی نے میرے ساتھ تصویر بنوانے کی بار بار درخواست کی تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یورپ نے توانائی اور ہجرت کے معاملات میں غلط فیصلے کیے ہیں اور اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو یورپ پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا تھا جبکہ جارجیا میلونی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’نہ ہی اٹلی اور نہ ہی میں کبھی کسی سے مِنت کرتی ہوں۔‘

میلونی نے کہا تھا کہ میں مغربی اتحاد کی حامی ہوں لیکن مضبوط تعلقات کی بنیاد کھلے اور واضح مؤقف پر ہوتی ہے، میں ہمیشہ دو ٹوک بات کرتی ہوں۔

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے تعلقات اس وقت مزید خراب ہوئے جب اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی اقدامات کی مکمل حمایت سے گریز کیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید