• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبر پختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ صرف سرکاری ریٹ پر زمین کا معاوضہ مقرر نہیں کیا جاسکتا۔

کیس میں تمام سول اپیلیں خارج کردی گئیں، زمین مالکان کے حق میں فیصلے برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، زمین کی مستقبل کی اہمیت بھی معاوضے کے تعین میں شامل ہوگی، اراضی کے حصول میں تاخیر سے قیمتوں میں اضافے کو بھی دیکھا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ منصفانہ معاوضہ ہر متاثرہ شہری کا آئینی حق ہے، ریاست عوامی مفاد میں زمین حاصل کرسکتی ہے، مگر مناسب معاوضہ دینا ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اراضی کے معاوضے کا اصول ’سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں‘ ہونا چاہیے، متاثرہ مالک کو مکمل مالی انصاف ملنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبر پختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد کردیں۔

 کیس نہر منصوبے کیلئے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق تھا، زمین مالکان نے سرکاری معاوضہ کم قرار دے کر عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر زمین مالکان کا معاوضہ بڑھا دیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے بھی ریفرنس کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے بڑھا ہوا معاوضہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ نے کے پی حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو درست قرار دے دیا۔

قومی خبریں سے مزید