• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 ءکیلئے جو بجٹ منظور کیا ہے اس کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 12سو ارب روپے زیادہ ہے۔ اس بجٹ پر کاروباری و صنعتی حلقوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے ’’ایکسپورٹ اورینٹڈ بجٹ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ پر کاروباری و صنعتی حلقوں کی جانب سے خاصے اعتراضات سامنے آئے تھے۔ علاوہ ازیں گزشتہ سال حکومت کی حلیف جماعت پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ پیپلز پارٹی یا دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی بجٹ پر کوئی خاص اعتراض نہیں کیا ہے۔

بجٹ سے پہلے ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق غیر یقینی پائی جا رہی تھی اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید حکومت کو بجٹ کی تیاری کے حوالے سے آئی ایم ایف اور مشرق وسطی میں جاری جنگ کی وجہ سے دبائو کا سامنا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدے کے اندر رہتے ہوئے حکومت نے کافی حد تک بہتر بجٹ پیش کیا ہے جبکہ مشرق وسطی میں جاری جنگ کے خاتمے سے بھی آنے والے دنوں میں حکومت کی طرف سے عوام کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

اس بجٹ میں جو دیگر اچھے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ان میں الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھنے اور سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف متوسط اور محنت کش طبقے کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کلین انرجی یا ماحول دوست توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے حوالے سے پالیسی کو جاری رکھنے میں سنجیدہ ہے۔

حالیہ بجٹ سے جہاں ایکسپورٹرز اور دیگر کاروباری شعبوں میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے وہیں ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث گزشتہ چند ماہ سے جاری مہنگائی کی لہر میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں حالیہ بجٹ میں جہاں پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل کاروباری اداروں پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی کرنے کےلئے تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کے ذریعے خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے۔

دوسری طرف ٹیکس نیٹ کو توسیع دینے کے لئے بھی کسی حد تک اقدامات کئے گئے ہیں لیکن اس سلسلے میں زیادہ سنجیدگی سے کام کرناہوگا کیونکہ جب تک غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جائے گا ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوسکتا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ 27-2026 ءمیں بھی نان فائلرز کی کیٹیگری برقرار رکھی ہے اور ان کے لئے ٹیکس کی شرح میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دوسری طرف فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5سے کم کر کے 1.5اور فروخت پر 5.5سے کم کر کے 2.75کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح تعمیراتی شعبے سے وابستہ صنعتوں پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس کا اطلاق بھی صرف فائلرز پر ہی ہو گا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے نان فائلرز کی کیٹیگری یکسر ختم کرنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر اس مسئلے سے یہ کہہ کر جان چھڑا لی ہے کہ جو لوگ اپنے گوشوارے اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروائیں گے۔ صرف وہی بڑے مالیاتی لین دین کر سکیں گے جن میں گاڑیوں اور غیر منقولہ جائیدار کی خریداری، سکیورٹیز اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت شامل ہے۔

قبل ازیں مالی سال 25-2024 ءکے بجٹ میں نان فائلرز کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھانے، موبائل سمز بلاک کرنے یا ان کے غیر ملکی سفر پر پابندی کے جزوی اقدامات کا اعلان کیا گیاتھا لیکن ان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ٹیکس نہ دینے والے اس طبقے کے براہ راست احتساب سے کترا رہی ہے اور ایسے افراد کے لئے نظام میں موجود خرابیوں اور چور راستوں کے ذریعے اپنی آمدن پر عائد ہونے والے ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کا راستہ کھلا رہے گا۔

اسی طرح حکومت نے برآمد کنندگان کے تحفظات کے باوجود فائنل ٹیکس رجیم کا نظام بحال نہیں کیا ہے بلکہ اس کی جگہ ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کو ختم کرکے ایک فیصد کم از کم ٹیکس کو بڑھا کر 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ قبل ازیں حکومت نے گزشتہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں آئی ایم ایف کے مالیاتی پیکیج سے مشروط شرائط کو پورا کرنے کے لئے جہاں ایک طرف محصولات کی وصولی کے ہدف میں تقریباََ 40 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا تھا وہیں برآمدکنندگان کو بھی کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنے کی بجائے پہلے سے دستیاب سہولیات بھی واپس لے لی گئی تھیں۔

اس لئے رواں مالی سال کے بجٹ میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ حکومت برآمدات بڑھانے کے لئے کوئی طویل المدت پالیسی متعارف کروائے گی لیکن یہاں بھی یہی نظر آتا ہے کہ تاحال وقتی اقدامات کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے کیونکہ مہنگی بجلی اور شرح سود میں کمی کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملک میں عام شہریوں کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں سست روی کی جانب گامزن ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ بجٹ میں عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں۔

تازہ ترین