شارجہ سے پاکستان آتے ہوئے لاپتہ ہونے والے نجی کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، طیارے کے کپتان رضوان ادریس کے بیٹے شہیر رضوان کا کہنا ہے کہ ان کی والد سے آخری مرتبہ گفتگو گزشتہ روز شام 7 بج کر 20 منٹ پر ہوئی تھی۔
کارگو طیارے کے کپتان رضوان ادریس کے بیٹے شہیر رضوان کا کہنا ہے کہ اکثر و بیشتر والد جب فلائٹ پر جاتے تھے تو ان سے رابطہ ہوا کرتا تھا، والد پیر کو طیارہ کراچی سے شارجہ لے کر گئے تھے، منگل کو ان کی واپسی تھی۔
شہیر رضوان نے کہا کہ گزشتہ روز شام 7:20 پر والد سے آخری مرتبہ گفتگو ہوئی، میڈیا کے ذریعے طیارہ حادثے کی اطلاع ملی۔
واضح رہے کہ بحیرہ عرب میں گزشتہ روز لاپتہ ہونے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کا ملبہ اورماڑہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب سے مل گیا ہے۔
پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے نے سمندر میں 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن میں ملبہ تلاش کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید شواہد اور عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کے بحری اور فضائی اثاثے سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ رات کراچی سے 155 میل مغرب میں اورماڑا کے قریب سمندر پر نجی کمپنی کا کارگو طیارہ ریڈار سے غائب ہوکر لاپتہ ہوگیا تھا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے بھی طیارہ لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔
لاپتہ طیارے نے شام 7 بج کر 12 منٹ پر اڑان بھری تھی، جس نے 9 بج کر 20 منٹ پر کراچی میں لینڈ کرنا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے میں 5 افراد سوار تھے جن میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود جتوئی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، ایئرکرافٹ انجینیئر محمد حامد اور ایئرکرافٹ انجینیئر محمد عارف صدیقی سوار تھے۔
طیارہ ضروری مرمت کیلئے شارجہ گیا تھا، کارگو طیارہ KTA1732، بوئنگ 400-737، رجسٹریشن AP-BOI، شارجہ سے کراچی آرہا تھا۔
نجی کارگو کمپنی کا کراچی دفتر بھی سیل کر دیا گیا، نجی کمپنی کے اعلامیے کے مطابق طیارے کا گزشتہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ طیارے میں پانچ ارکان سوار تھے۔