٭ نوکر کو اپنا راز بتا دینا، اُسے نوکر سے مالک بنا دیتا ہے۔
٭ والدین سے تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے، جسے لکھتے تم ہو، مگر پڑھ کر تمہاری اولاد سُناتی ہے۔
٭ دوستوں میں خامیاں نہیں، خوبیاں تلاش کرو، ورنہ تنہا رہ جاؤ گے۔ گلاب کے پودے میں اُتنے پھول نہیں، جتنے کانٹے ہوتے ہیں، مگر پھر بھی لوگ اُسے ’’گلاب‘‘ کہتے ہیں۔
٭ یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان ایک سو سال تک زندہ رہے، مگر زندگی کا ایک دن ایسا گزارو کہ لوگ تمہیں ایک سو سال تک یاد رکھیں۔
٭ بےشک مشکل وقت بتا کر نہیں آتا، مگر سِکھا اور سمجھا کر بہت کچھ جاتا ہے۔
٭ غلط فہمی چھوٹی ہو یا بڑی اتنی زہریلی ہوتی ہے کہ سالوں کے سنہرے پَل خاک میں ملا دیتی ہے۔
(پرویز شکیل، مہران انجینئرنگ یونی ورسٹی، جام شورو)