• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاغذ کی ایجاد سے قبل نزولِ وحی کے دوران قرآنِ کریم کی آیات کس چیز پر لکھی جاتی تھیں؟

— تصویر بشکریہ عرب میڈیا
— تصویر بشکریہ عرب میڈیا

کاغذ کی ایجاد اور قرآنِ کریم کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیے جانے سے پہلے کاتبانِ وحی قرآنِ کریم کی آیات کو چمڑے، کھجور کی شاخوں، پتھروں اور جانوروں کی ہڈیوں پر تحریر کیا کرتے تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم مرحلہ تھا، جس کے ذریعے نزولِ وحی کے آغاز ہی سے قرآنِ کریم کی آیات محفوظ کی جاتی رہیں۔

مکہ مکرمہ کے ثقافتی علاقے ’حیِ حراء‘ میں قائم قرآنِ کریم میوزیم اسی تاریخی دور کی جھلک پیش کرتا ہے، یہاں ایسے نوادرات اور نمونے رکھے گئے ہیں جو ان ذرائع کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر کاتبانِ وحی قرآنِ کریم لکھا کرتے تھے۔

مکہ میں قائم قرآنِ کریم میوزیم میں ایسے نمونے رکھے گئے ہیں جو ان مختلف اشیاء کی نمائندگی کرتے ہیں جن پر نزولِ وحی کے دوران قرآنِ کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں۔

ان میں ادیم (چمڑا)، کھجور کی شاخیں، لکڑی کے ٹکڑے، پتھر اور جانوروں کی ہڈیاں، خصوصاً کندھے اور پسلیوں کی ہڈیاں شامل ہیں، جو قرآنِ کریم کو ایک مصحف کی صورت میں جمع کیے جانے سے پہلے کتابت کے اہم ذرائع تھے۔

ان میں چمڑا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ تھا، کیونکہ یہ مضبوط، پائیدار اور تحریر کو محفوظ رکھنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا تھا۔

یہ کھال کو دباغت (جانوروں کی کچی کھالوں کو کیمیائی یا قدرتی طریقوں سے صاف کرنے) کے عمل سے گزار کر تیار کیا جاتا تھا، جس کے بعد اس پر لکھا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ عہدِ نبوی میں قرآنِ کریم کی بہت سی آیات اسی پر محفوظ کی گئیں۔

میوزیم میں رکھی گئی اشیاء کے ساتھ معلوماتی وضاحتیں بھی موجود ہیں، جن میں ہر ذریعے کی خصوصیات، اس کے استعمال کی وجوہات اور اس پر لکھنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔

اس سے زائرین کو اس تاریخی ماحول اور ابتدائی مسلمانوں کے ان ذرائع کا جامع تصور ملتا ہے جن کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب کو محفوظ کیا گیا۔

خاص رپورٹ سے مزید