• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بشریٰ انصاری کا بیٹی کا رشتہ طے کرتے ہوئے بڑی غلطی کا اعتراف

— اسکرین گریب
— اسکرین گریب

پاکستانی معروف اداکارہ، میزبان، مصنفہ بشریٰ انصاری نے اپنی بیٹی کی شادی کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ بیٹی کا رشتہ طے کرتے وقت مجھ سے ایک بڑی غلطی ہوئی۔

حال ہی میں بشریٰ انصاری نے نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی بیٹیوں کی پرورش، ان پر عائد خاندانی پابندیوں اور شادی کے معاملے میں اختیار کیے گئے نسبتاً آزادانہ طرزِ فکر پر کھل کر گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کے باعث مجھ سے وہ غلطی ہوئی جسے میں آج اپنی سب سے بڑی غلطی قرار دیتی ہوں۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کی شادی کے معاملے میں پہلے ہی ایک تلخ تجربے سے گزر چکی ہوں، ہمارے دور میں ہمیں زیادہ آزادی حاصل نہیں تھی، نہ ہمیں لڑکوں سے دوستی کی اجازت تھی اور نہ ہی ہم نے کو ایجوکیشن کے ماحول میں تعلیم حاصل کی، اسی ردِعمل میں ہم نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ وہ ہم سے کبھی جھوٹ نہ بولیں اور اگر انہیں کوئی پسند ہو تو ہمیں ضرور بتائیں، ہم نے نسبتاً پروگریسو سوچ اپنائی۔

بشریٰ انصاری کے مطابق ہم ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بیٹیوں کو یہ کہنا معیوب سمجھا جاتا تھا کہ وہ کسی امیر شخص سے شادی کریں، ہم یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ ایسا لڑکا تلاش کرو جس کے پاس بڑا گھر یا بہت زیادہ جائیداد ہو؟ ہمارے نزدیک دولت سے زیادہ اہم کردار، اقدار اور اچھی تربیت تھی، ہمارا ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ اگر شوہر کی آمدن کم بھی ہو تو میاں بیوی مل کر اپنا گھر بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی بیٹی کے لیے رشتہ منتخب کرتے وقت ہم سے غلطی ہوئی، ہم لڑکے کے کردار کا درست اندازہ اس کے خاندان اور اس کی ظاہری شخصیت سے نہیں لگا سکے۔

اداکارہ نے کہا کہ میں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر وہ شائستہ انداز میں بات کرتا ہے، اس کا خاندان تعلیم یافتہ ہے تو وہ یقیناً اچھا لڑکا ہو گا، تاہم نریمان نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ جب بھی میں اس سے مالی معاملات کے بارے میں پوچھتی تو وہ ناراض ہو جاتا تھا، درحقیقت یہی خطرے کا اشارہ تھا، مگر ہم نے اسے نظر انداز کر دیا کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ کہیں یہ رشتہ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید