مردانگی سمجھنے سے بہت پہلے سکھا دی جاتی ہے۔ ایک لڑکا، جو ابھی بمشکل جملے بنانا سیکھتا ہے، پہلے ہی یہ ہدایات سننے لگتا ہے کہ ایک ’حقیقی مرد‘ کیسے برتاؤ کرتا ہے۔ روؤ مت۔ شکایت نہ کرو۔ خوف ظاہر نہ کرو۔ کمزور نظر نہ آؤ۔ یہ ہدایات کہیں لکھی نہیں ہوتیں، مگر ہر جگہ نافذ کی جاتی ہیں۔ گھروں میں، اسکولوں میں، کھیل کے میدانوں میں، حتیٰ کہ عبادت گاہوں میں بھی۔ تاہم یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، اگرچہ پاکستان میں، خاص طور پر موجودہ حالات میںیہ زیادہ نمایاں ہے۔ ہم جس رویے کی بات کر رہے ہیں، وہ کسی ایک ملک کی ناکامی نہیں بلکہ ایک بہت وسیع ذہنیت ہے، جو دنیا کے مختلف معاشروں میں سامنے آتی ہے، اور سب سے زیادہ ان معاشروں میں دکھائی دیتی ہے جہاں اختیار اوپر سے نیچے آتا ہے، اندازِ فکر پدرانہ ہے، اور مردانہ غلبہ غالب ہے۔ جہاں بھی مردانگی کو ضبط، خاموشی اور سختی سے ناپا جاتا ہے، وہاں لڑکوں کو تقریباً اسی انداز میں اپنے جذبات دبانا سکھایا جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان اس رجحان سے مستثنیٰ نہیں بلکہ اس کی ایک زیادہ واضح مثال ہے۔
وقت کے ساتھ یہ پیغامات لڑکوں کو ایک تنگ جذباتی خانے میں بند کر دیتے ہیں۔ طاقت کو خاموشی سمجھ لیا جاتا ہے۔ برداشت کو صحت مندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کمزوری دکھانے کو ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ اور جب تک یہ لڑکے مرد بنتے ہیں، وہ ایک بات نہایت اچھی طرح سیکھ چکے ہوتے ہیں’اپنے احساسات کے بارے میں بات نہ کرنا‘۔
اس کے اثرات جذباتی طور پر دور رہنے والے باپوں، غصے سے بھرے نوجوانوں، ٹوٹتی ہوئی شادیوں، نشے کے استعمال، خاموش ڈپریشن اور وسیع تر ذہنی صحت کے بحران کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ معاشرے کو صرف یہ پوچھنے کے بجائے کہ مرد بات کیوں نہیں کر پاتے یا غصہ اتنی آسانی سے کیوں پھوٹ پڑتا ہے، یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ بچپن میں لڑکوں کو جذبات کے بارے میں کیا سکھایا گیا تھا۔
یہ نقصان سب سے زیادہ گھر کے اندر محسوس ہوتا ہے۔ بہت سی شادیاں اس لیے متاثر ہوتی ہیں کہ مردوں کو کبھی یہ نہیں سکھایا جاتا کہ دکھ، خوف یا مایوسی کو الفاظ میں کیسے بیان کیا جائے۔ اس کے بجائے خاموشی، غصہ اور جذباتی فاصلہ سچی گفتگو کی جگہ لے لیتے ہیں، جس سے دلوں میں رنجش پیدا ہوتی ہے اور رشتہ کمزور پڑتا ہے۔ بچے بھی یہی نمونے جذب کرتے ہیں وہ محبت اور اختلاف کو ایسے گھر سے سمجھتے ہیں جہاں جذبات دبے رہتے ہیں۔ آخرکار، جس چیز کو معاشرہ طاقت کہتا ہے، وہ خاموشی سے اسی خاندانی زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے جس کے تحفظ کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔
اگر ہم یہ مان لیں کہ یہ ایک نظامی مسئلہ ہے تو پھر اسے بالغ مردوں کو صرف یہ کہہ دینے سے حل نہیں کیا جا سکتا کہ ’دل کی بات کر لیا کریں‘۔ اس کیلئے ایک فکری اور سماجی تبدیلی درکار ہے؛ ایسی تبدیلی جس میں والدین، اساتذہ، ذہنی صحت کے ماہرین اور پورا معاشرہ اپنا اپنا حصہ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے۔
تبدیلی گھر سے شروع ہونی چاہیے۔والدین، خاص طور پر باپ، اسکول سے بہت پہلے ایک لڑکے کی جذباتی دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ جب کوئی بچہ روتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ ’مرد بنو‘ تو اسے جو پیغام ملتا ہے وہ حوصلہ نہیں بلکہ شرمندگی ہوتا ہے۔ والدین کو یہ سیکھنا ہوگا کہ لڑکے کو رونے دینا اسے کمزور نہیں بناتا۔ یہ اسے سکھاتا ہے کہ جذبات عارضی ہیں، سنبھالے جا سکتے ہیں اور محفوظ انداز میں ظاہر کیے جا سکتے ہیں۔ وہ باپ جو دباؤ، مایوسی، غم یا خوف کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیںاپنے بیٹوں کو انسان ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ مائیں بھی اس وقت کردار ادا کرتی ہیں جب وہ یہ خیال مضبوط کرتی ہیں کہ مرد کو ہمیشہ مضبوط اور خاموش رہنا چاہیے۔ گھر میں جذباتی تحفظ پہلی اور سب سے مؤثر مداخلت ہے۔
اس کے بعد اسکول آتے ہیں، اور یہاں پاکستان میں ایک نمایاں خلا موجودہے۔ہمارا تعلیمی نظام فرمانبرداری، سختی اور کارکردگی کو انعام دیتا ہے، مگر جذباتی شعور کو شاذ ہی جگہ دیتا ہے۔ اساتذہ اکثر غیر ارادی طور پر ان نقصان دہ روایات کو تقویت دیتے ہیں، جب وہ رونے والے لڑکوں کا مذاق اڑاتے ہیں یا ان کے رونے پر حیرت ظاہر کرتے ہیں۔ کلاس رومز کو صرف ریاضی اور سائنس نہیں پڑھانی چاہیے، انہیں اختلاف حل کرنے، ہمدردی اور خود آگاہی بھی سکھانی چاہیے۔ اساتذہ کو بنیادی تربیت درکار ہے کہ وہ لڑکوں میں جذباتی پریشانی کو پہچان سکیں، صرف بدتمیزی یا خلل ڈالنے والے رویے کو نہیں، کیونکہ ایسا رویہ اکثر چھپی ہوئی جذباتی تکلیف کی صورت ہوتا ہے۔ جو لڑکا غصے میں ہو، خاموش ہو گیا ہو یا کلاس میں خلل ڈال رہا ہو، وہ اکثر ضدی نہیں بلکہ اندر سے الجھا ہوا ہوتا ہے۔
دوسری طرف ذہنی صحت کے ماہرین کی ذمہ داری صرف علاج کے کمرے تک محدود نہیں۔پاکستان میں تھراپی کو اب بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر مردوں کیلئے۔ ماہرین کو مرد مریضوں میں جذبات کے اظہار کو معمول بنانےکیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، اور اپنی زبان اور طریقۂ کار کو ثقافتی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ آگاہی اہم ہے۔ رسائی اہم ہے۔ تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات اور نفسیاتی معالجین کو اسکولوں، والدین، کام کی جگہوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کرنا ہوگا تاکہ ذہنی صحت کو کمزوری کے بعد مرمت نہیں، بلکہ طاقت کی دیکھ بھال کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
ایسی تبدیلی کے مثبت نتائج گہرے ہوں گے۔گھروں کے اندر رشتوں میں نرمی آئے گی۔ شوہر پیچھے ہٹنے کے بجائے بات کریں گے۔ باپ خوف پیدا کرنے کے بجائے رشتہ قائم کریں گے۔ بچے بے چین اور الجھے ہوئے نہیں بلکہ جذباتی طور پر محفوظ ماحول میں بڑے ہوں گے۔معاشرتی سطح پر غصہ کم ہوگا، ہمدردی بڑھے گی، اور اختلافات، چاہے وہ گھریلو ہوں یا اجتماعی، زیادہ آسانی سے سنبھالے جا سکیں گے۔ جو مرد اپنے جذبات کو سمجھتے ہیں، وہ انہیں دوسروں پر مسلط کرنے کے امکانات کم رکھتے ہیں۔ جب افراد صحت مند ہوں تو معاشرے زیادہ پُرسکون ہو جاتے ہیں۔
قومی سطح پر جذباتی طور پر مضبوط مرد بہتر رہنما، بہتر فیصلہ ساز اور بہتر شہری بنتے ہیں۔ جب لڑکوں کو کم عمری سے دکھ، خوف اور مایوسی کے اظہار کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ ایسے بالغ افراد بنتے ہیں جو اپنے جذبات کو سنبھال سکتے ہیں، ان کے قابو میں نہیں آتے۔ اس سے خاندان مضبوط ہوتے ہیں، پیداواری صلاحیت بہتر ہوتی ہے، اور ایک زیادہ پُرسکون، زیادہ انسانی اور زیادہ اہل قوم بنتی ہے۔ اس لیے جذباتی اجازت کوئی لاڈ پیار نہیں،یہ ملک کے مستقبل میں طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔یہ مردوں کو ’نرم‘ بنانے کی بات نہیں۔ یہ انہیں مکمل انسان بنانے کی بات ہے۔