آپ نے گھرمیں پینٹ کرواناہو،بھاری سامان اٹھوانا ہو، چھوٹی موٹی مرمت کروانی ہو تو تقریباً ہر شہر کے مین بازاروں میں مزدور سڑک کنارے بیٹھے ہوتے ہیں۔یہ آپ کے قریب پہنچتے ہی خودبخودآپ کے گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں اورپھر آپ اِن میں سے کسی کو منتخب کرکے مالی معاملات طے کرتے ہیں ا ور ساتھ لے جاتے ہیں۔لیکن اگر آپ نے سیلنگ کروانی ہے، فرش کو جدید روپ میں ڈھالنا ہے یا کمروں کو کسی خصوصی روپ میں ڈھالنا ہے تو آپ کوئی ایسابندہ ڈھونڈتے ہیں جو صرف اسی کام کا ماہر ہو۔اسی کو Niche کہتے ہیں یعنی کسی ایک کام میں طاق ہونا، ماہرہونا،ا سپیشلائزڈہونا۔اس کی بہترین مثال لاک ماسٹر کی ہے۔تالانہ کھل رہا ہو تو یہی بندہ بلانے سے کام بنتاہے۔یوٹیوب پر بھی ان لوگوں کے چینل کامیاب ہیں جو ایک خاص نیش میں کام کررہے ہیں مثلاً سیاست،کوکنگ،کامیڈی، باغبانی، کمپیوٹر، اے آئی، وغیرہ۔البتہ عام زندگی میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو ہر کام میں اسپیشلسٹ ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں اور کسی کا بیڑا غرق کروانے کے بعداُسی کا قصور ثابت کر دیتے ہیں۔کراچی سے ڈاکٹر سہیل یار خان میرے پرانے قارئین میں سے ہیں۔نہایت پڑھے لکھے،بااخلاق اور علمی خاندان سے تعلق ہے۔ آپ کے مرحوم والد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دلچسپ اور لیگل فراڈ ’چائنہ ٹیبل‘کی طرف توجہ دلائی جو ان کے بقول کراچی میں نہایت منظم طریقے سے جاری ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ آپ کے حلقہ احباب میں اچانک کچھ نئے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ نزدیکیاں بڑھتی ہیں۔پھر وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ فلاں بزنس بہت منافع بخش ہے۔آپ چونکہ ان کے نرغے میں آچکے ہوتے ہیں لہٰذا آپ کو بھی ان کی باتوں پر یقین آجاتاہے۔پھر وہ آپ سے اُس بزنس میں بھاری سرمایہ انویسٹمنٹ کرواتے ہیں۔ چونکہ مقصد پہلے سے طے ہوتاہے اس لیے کچھ عرصے بعد بزنس بھاری نقصان کے باعث ٹھپ ہوجاتاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فراڈیے کوئی جرم نہیں کرتے، کہیں بھاگتے نہیں بلکہ پوری طرح دلیلوں سے آپ کو باور کراتے ہیں کہ آپ سے فلاں فلاں جگہ غلطی ہوئی تھی جسکی وجہ سے اس سارے نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔پھر آپ کو خود بھی اپنی کوتاہیوں کا یقین ہونے لگتاہے لیکن تب تک چائنہ ٹیبل الٹ چکی ہوتی ہے۔
…
کچھ چیزوں کا باہمی تعلق آج تک سمجھ نہیں آسکا جس میں سرفہرست حجام یا نائی صاحبان ہیں۔اِن کے ساتھ تین ایسے پیشے منسوب ہیں جو بالکل ایک دوسرے کا الٹ ہیں۔ یہ بال بھی کاٹتے ہیں اور دیگوں کی پکوائی بھی کرتے ہیں۔ ہے کوئی تعلق؟ بال کاٹنا بالکل الگ کام ہے اور دیگیں پکانا الگ کام لیکن روایت چلی آرہی ہے کہ نائی یہ دونوں کام کرتے ہوں گے، ویسے تویہ سونے کی چڑی والے ’سرجری‘ کے معاملات بھی دیکھتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ایک بیوٹی پارلر میں کسی لڑکی کا فون آیا اور اس نے پوچھا کہ کیا یہ بال کاٹنے والی دکان ہے؟ پارلر کی ریسپشنسٹ نے کاروباری انداز اپناتے ہوئے برا منائے بغیر خوش اخلاقی سے جواب دیا کہ ’جی ہاں یہاں بال بھی سیٹ کیے جاتے ہیں۔‘ دوسری طرف سے سوال آیا’دس کلو بریانی کی دیگ پکوانی ہو تو کتنے پیسے لیں گی؟‘۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد فون سے صرف ٹوں ٹوں کی آواز آتی رہ گئی۔ریٹائرڈ پہلوانوں کے ساتھ بھی دو دھ دہی یا نان چنوں کی دکان کا پیشہ جڑاہوا ہے آپ کو ایسی ہر دوسری دکان کا مالک پہلوان ملے گا اورکہیں کہیں تویہ بات برینڈ کے طور پر بتائی جاتی ہے لہٰذاآپ کو اکثر سڑک کنارے اس طرح کے نام والی دکانیں نظر آتی ہوں گی’پہلوان کی لسی، پہلوان کے چنے، پہلوان کی ربڑی، پہلوان کی ریوڑی وغیرہ‘۔پہلی نظر میں تاثر یہی ملتاہے کہ پہلوان صاحب یہی کچھ کھا کھا کر پہلوانی کرتے رہے ہیں اورانہی چیزوں کی بدولت دوکان کھولنے پر مجبور ہوئے۔بڑے اور چھوٹے کام کیلئے بھی الگ الگ الفاظ رائج ہیں۔ سڑک کنارے بیٹھا جوتیوں کی مرمت کرنے والا موچی ہے لیکن اعلیٰ ترین فیکٹریوں میں جوتے بنانے والوں فیکٹری اونر ہیں۔ریڑھی پر ڈرم رکھے تیل بیچنے والا تیلی ہے لیکن ڈبوں میں پیک کرکے وسیع پیمانے پر تیل بیچنے والاآئل مل کا مالک ہے۔ہارمونیم گلے میں لٹکائے گلی گلی گا نے والا مراثی ہے لیکن انگلش اسٹائل میں دس ہزار کے مجمع میں اسٹیج پر گانے والا سنگرہے۔دوگدھوں پر مٹی لاد کرلے کر جانے والا کمہار ہے،رحمانی ہے لیکن یہی کام کوئی بڑے لیول پر کر رہا ہو تو وہ ایجنسی چلا رہاہے۔راہ چلتے آپ سے پیسے مانگنے والا بھکاری ہے لیکن بڑے ہوٹل میں آپ کی ٹپ کا منتظر ویٹر ہے۔ایک دور میں مشک میں پانی بھر کر گھر گھر پہنچانے والا ماشکی کہلاتا تھا آج کل پچیس لٹرکی بوتلوں میں پانی بھر کر بیچنے والے برینڈ کہلاتے ہیں۔کم فیس لے کر بچوں کو پڑھانے والا اُستاد جی ہے، تھوڑے زیادہ پیسے لینے والا ٹیچر ہے اور ٹیویشن پڑھانے والا ٹیوٹر ہے۔کھلا دودھ بیچنے والا گوالا ہے اور پیکٹ میں بیچنے والے کمپنی۔بزرگوں کی بات نصیحت ہے اور ٹائی کوٹ والوں کی بات موٹیویشن۔اگر آپ نے سڑک کنارے ڈھابہ ہوٹل سے کھانا کھایاہے تو آپ نے بھوک مٹائی ہے۔ اچھے ہوٹل میں کھایاہے تو ڈنر کیا ہے۔پانچ مرلے کامکان بنانے کا ہنر جانتے ہیں تو ٹھیکیدار ہیں، تین کنال کا بنا سکتے ہیں تو انجینئر ہیں۔آدھے مرلے کی دکان میں سلائی مشین رکھ کر سستی سلائی میں کپڑے سی رہے ہیں تو درزی ہیں اور بڑی دکان میں،جدیدتراش خراش کا لباس پہن کر سو گنا زیادہ پیسے لے رہے ہیں تو ڈیزائنر ہیں۔سائیکل چلاتے ہیں تو مجبور ہیں البتہ شام کو ائیرکنڈیشنڈ ماحول میں یہی پیڈل مارتے ہیں تو یہ ایکسرسائز ہے۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک لڑکا اپنی محبوبہ کو متاثر کرنے کیلئے بتا رہا تھا کہ پہلے میں ان پڑھ تھا۔لوگ مجھے جاہل کہتے تھے لیکن میں نے ہمت نہ ہاری اور انگریزی سیکھنے پر توجہ دی۔ لڑکی کے چہرے پر متاثرکن تاثرات نمودار ہوگئے خوش ہوکربولی’اوراب؟‘۔ لڑکے نے گردن اکڑائی’اب میں اَن ایجوکیٹڈ ہوں۔‘