• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج 14اگست 2026ء میں 21دن رہ گئے ہیں۔14اگست 2026ء کو پاکستان صدی 14 اگست 2047ء میں 21سال رہ جائینگے۔ میری خواہش ہے کہ ہم ان 21سال کو تحریک تکمیل پاکستان یعنی قائداعظم اور علامہ اقبال کا 21ویں صدی کا جدید ترقی کرتا پاکستان بنائیں۔ 21سال ایک مثالی عرصہ ہوتا ہے کہ پانچ سال کی عمر میں پرائمری سکول کا آغاز کرنے والا پاکستانی اپنا پورا تعلیمی عرصہ 21سال کی عمر میں پورا کر لیتا ہے۔ ہماری قومی سیاسی جماعتیں، ہمارے دانشور، علماء، اساتذہ ،ناول نگار، افسانہ نویس ،شاعر، اردو والے، پنجابی والے، سندھی والے، پشتو والے، بلوچی والے، کشمیری والے، بلتی والے سب ملکر اگر 21سال کو اپنی دانش بصیرت تدبر منصوبہ بندی کا محور بنا لیں تو یقیناً ہم اپنی منزل پا سکتے ہیں۔ ہر علاقے کی اپنی اپنی ثقافت، ادب اور تصوف کی شاندار کئی کئی صدیاں ہیں اب انشااللّٰہ اس میں ایک اور شاندار ’’پاکستان صدی‘‘ کا اضافہ ہونے والا ہے۔

اس 14اگست 2026ء کو ہم تاریخ کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں جیسے ہم نے 23مارچ 1940ء کو تاریخ سے عہد کیا تھا اور اسے سات سال بعد 14اگست 1947ء کو پا بھی لیا تھا ۔اگر آپ بھی یہی آرزو رکھتے ہوں تو اپنے حلقہ احباب میں اور اپنی اولادوں میں اس عزم کو دہرائیں۔ ہم جوانی میں یہ نعرہ سنتے آئے تھے۔ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج میں اس کا ہم عملی مظاہرہ دیکھ رہے ہیں۔ اس جنگ کا مرکزی حملہ آور تو 10ہزار میل دور آباد ہے لیکن اس نے ایسی جنگیں چھیڑنے کیلئے دنیا کے 70سے زیادہ ملکوں میں اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس کی کیسے اجازت دی ۔عالمی اخلاقیات نے اسے کیسے برداشت کیا۔ پہلے تو یہ سب کچھ کمیونزم کے مقابلے کیلئے تھا اب تو کمیونسٹ خطرہ ختم ہو چکا ہے۔ اب آزاد دنیا کو کس سے خوف آتا ہے؟۔

مشرقِ وسطیٰ میں خاص طور پر عرب دنیا کو تو اسرائیل سے خدشات ہیں اور وہ مسلسل اسرائیلی بربریت برداشت کرتے آرہے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ عرب ملکوں میں فوجی اڈے، ایئر ڈیفنس، پیٹرول بھرنے کی ساری سہولتیں امریکہ کو ملی ہوئی ہیں جو اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی سیاسی مالی اور اخلاقی سرپرست ہے یعنی یہ عرب ریاستیں اسرائیل سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتیں۔ ان میں سے اکثر نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی قائم کر لیے ہیں یعنی انکو بھی خطرہ انہی طاقتوں سے ہے جن سے امریکہ ڈرتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے وعدہ خلافی، معاہدے توڑنے اورملکوں پر حملے کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ان کا حافظہ شاید قدرت نے چھین لیا ہے۔ وہ ویتنام میں شکست فاش کو بھول گئے ہیں۔ اس طرح افغانستان میں 20 سال اور کئی ارب ڈالر خرچ کرنے کے بعد وہاں سے بھاگ کر جان بچانے کے سانحے بھی انہیں یاد نہیں۔

اب ان پر ایران کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے اور مشرق میں اسرائیل کے واحد دشمن ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا جنون سوار ہے۔ اسلئے اسلام آباد یادداشت مفاہمت پر دستخط بھی انہیں یاد نہیں رہے ہیں۔ انہیں ثالثوں کی ساکھ کا خیال بھی نہیں ہے۔ جو مقاصد بالآخر مذاکرات سے ہی حاصل ہونگے۔ انہیں وہ بمباری، مسماری ،گولہ باری، میزائلوں اور ڈرونوں کی بارش سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ایران کے آس پاس کوئی امریکی کالونی تو نہیں ہے۔ لیکن ایسی ریاستیں موجود ہیں جو ایک صدی سےشاید اسی لیے بسائی جارہی تھیں کہ وہ ان علاقوں میں امریکہ اور یورپ کے مفادات کی پاسداری کر سکیں۔

اسلام آباد یادداشت برائے مفاہمت کی دھجیاں امریکی صدر ٹرمپ(1) قطر میں العدید ایر بیس قاعدہ الدعم البحری الامریکہ سے اڑا رہے ہیں جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایک بڑا ہیڈ کوارٹر ہے 10ہزار امریکی فوجی یہاں بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔(2) پھر قریب ہی بحرین جہاں امریکہ کا پانچواں بحری فلیٹ ہے اسے Navel support activity Bahrainکا ٹائٹل دیا گیا ہے۔ (3) پھر متحدہ عرب امارات میں قاعدۃ الظفر تہ الجویہ۔ یہاں سے امریکی بمباروں کو پٹرول بھرنے کی سہولتیں دی جاتی ہیں۔(4) اردن میں قاعدہ الموفق السلطی الجویہ ،یہاں گزشتہ ہفتے دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔(5) عراق میں قاعدہ عین الاسد الجویہ ہوائی اڈا ہے اور ایک قاعدہ اربیل ہے۔(6) کویت میں معسکر عارف جان اور معسکرالدوحہ۔(7) سعودی عرب میں قاعدۃ الامیر سلطان الجویہ۔ مغربی اخباری ذرائع کے مطابق ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں یہ سات مقامات استعمال ہو رہے ہیں اس لیے جواب میں ایران بھی ان ملکوں پر حملے کر رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اہداف میں (1) ایرانی فوجی کمان کے مراکز کا انہدام۔ (2) ایران کے فضائی دفاعی نظام کا خاتمہ۔ (3) میزائل ڈرون کے کارخانے ختم کرنا۔ (4) ایران کی بحری طاقت کا خاتمہ کرنا۔ (5) ایران کے مواصلاتی نیٹ ورک کا خاتمہ۔ (6) ایرانی ایٹمی نیٹ ورک کی تباہی۔ (7) پاسداران انقلاب کا صفایا خاص طور پر وہ جنہوں نے اردن میں دو امریکی فوجی ہلاک کیے ہیں، امریکی محکمہ دفاع نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایا ہے کہ وہ تیل کے مرکز خرگ جزیرے پر قبضہ کر سکتے ہیں 2. آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو ایک دو ہفتے میں ختم کیا جا سکتا ہے۔

عالمی دفاعی ماہرین اور غیر جانبدار تجزیہ کار اس نکتے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں کہ امریکہ ایران میں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں شامل مرکزی وعدے 60روزہ جنگ بندی پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو سکا اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو کیوں اور اگر امریکہ نے پہل کی تو کیوں۔؟ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کس کس کے مفاد میں نہیں ؟جن عرب ریاستوں میں امریکی فوجی اڈے ہیں انہیں 28فروری سے اب تک کتنا جانی، مالی، سفارتی اور اخلاقی نقصان ہو چکا ہے۔ اب کے ایران نے اقوام متحدہ سے پہلے رابطہ کیا پھر وہ اپنے ثالث پاکستان کے پاس آیا کیونکہ رہبر معظم کے جنازے میں ایران کو 70 ملکوں کی اخلاقی حمایت حاصل ہوئی تھی جو اقوام متحدہ کے ارکان بھی ہیں۔

امریکہ میں آئینی اداروں کا صبر بھی اب حد سے گزر رہا ہے۔ کیونکہ اس کھلی جنگ سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ پھر اب تک 17امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے مختلف ریاستوں میں احتجاج سے بھی امریکی رائے عامہ متاثر ہو رہی ہے۔ ایران کے مرکزی رہنماؤں کیلئے کئی روزہ تعزیتی جلوسوں نے ایرانیوں کااپنے رہبروں پر اعتماد زیادہ پختہ کر دیا ہے عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ اب ایران اور امریکہ کے درمیان کھلی جنگ امن اور جنگجوؤں کے درمیان کھلی جنگ بن گئی ہے۔ فیفا کے فائنل میں اسپین کی فتح نے امن کے حامیوں اور مظلوم فلسطینیوں کے ہمدردوں کو اخلاقی برتری دی ہے فلسطین کا پرچم اور امن کے رنگ ٹرمپ کے زیر نگیں اقلیم میں لہراتے دنیا نے دیکھے ہیں۔

تازہ ترین