• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیفری ایپسٹین کا مبینہ ’خودکشی نوٹ‘ کیا اصلی ہے؟ ماہرین کا پرانی تحریروں سے موازنہ

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

بدنامِ زمانہ امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے مبینہ خودکشی نوٹ نے ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی۔

امریکی عدالت کے جج نے بدھ 6 مئی کو یہ ہاتھ سے لکھا گیا نوٹ عوام کے سامنے پیش کیا، یہ دستاویز نیویارک کے وائٹ پلینز میں وفاقی عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔

مبینہ نوٹ میں جیفری نے لکھا تھا کہ انہوں نے مہینوں میری تحقیقات کیں، کچھ نہیں ملا، اپنی رخصتی کا وقت خود چن لینا ایک عجیب سکون دیتا ہے، تم چاہتے ہو میں رونا شروع کر دوں؟ کوئی فائدہ نہیں یہ سب اس قابل نہیں۔

نوٹ پر نہ تاریخ درج ہے اور نہ ہی کوئی دستخط موجود ہیں، جس کے باعث اس کی اصلیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیونے جو 4 افراد کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جولائی 2019ء میں ایپسٹین کی پہلی مبینہ خودکشی کی کوشش کے بعد مجھے یہ نوٹ ایک گرافک ناول میں ملا تھا، میں نے سی پی آر دے کر ایپسٹین کی جان بچائی تھی۔

اس کے چند ہفتوں بعد جیل میں 66 سالہ جیفری ایپسٹین مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کی موت کے بعد سے مختلف سازشی نظریات مسلسل گردش میں ہیں۔

ماہرین نے اس نوٹ کی تحریر کا موازنہ ایپسٹین کی ایک پرانی پوسٹ کارڈ تحریر سے کیا ہے۔

 ماہرین کے مطابق دونوں تحریروں میں دائیں جانب ہلکا جھکاؤ، حروف کو کرسیو انداز میں جوڑنے کا طریقہ اور الفاظ کے درمیان غیر یکساں فاصلہ جیسی مماثلتیں پائی گئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دونوں تحریریں ایک ہی شخص کی ہو سکتی ہیں۔

تاہم اب تک کسی مستند یا سرکاری ادارے نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ نوٹ واقعی جیفری ایپسٹین نے خود لکھا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید