بھارت میں نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری ہے، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔
ترجمان سی جے پی نے بھارتی وزیرِ اعظم مودی کے ڈیڑھ ماہ بعد نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
ترجمان سی جے پی اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد آخر کار وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہو ہی کیوں رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پیپر لیک اس لیے ہورہے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک وزیر تعلیم سمیت ناہل لوگ بیٹھے ہیں، پیسہ بنا رہے ہیں، نظام چلانے والے لوگ نااہل ہیں، یہ اقدامات کسی بھی صورت میں کافی نہیں، ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دے دیتے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں، انہوں نے ہی نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، تعلیم نظام کو تباہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی، نوجوانوں کے مطالبات درست ہیں، وزیر تعلیم کو مستعفی ہونا ہی ہوگا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے باہر سے بی جے پی کے افراد بھیجے جا رہے ہیں، ایک ماہ سے جاری دھرنے کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کے زور پکڑتے ہی پتھراؤ کروا کر تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پولیس احتجاجی مقامات کے قریب پتھر بھرے ٹرک لاتی ہے، بی جے پی کے غنڈے آتے ہیں اور پتھراؤ کرتے ہیں۔
ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بات چیت کے لیے کابینہ کا دروازہ کھلا ہے تو جنتر منتر کا دروازہ بھی کھلا ہے۔