• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک بحیثیت قوم ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہمارے ترقیاتی منصوبہ جات قومی مفادات کی بجائے سیاسی مصلحتوں سے زیادہ منسلک رہے ہیں۔ باالفاظ دیگر مجموعی طور پر ہماری قومی ترجیحات ملکی مفاد کے برعکس شخصی پالیسیوں کے زیادہ قریب رہی ہیں ۔ اس ضمن میں ایک بڑی مثال ماضی کے ایک بہت بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے یعنی’’ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ‘‘کی دی جا سکتی ہےجسکی سزا ایک بلب روشن کرنیوالے سے لیکر بڑی سے بڑی صنعت چلانے والے سمیت پاکستان کے 25 کروڑ عوام بھگت رہے ہیں ۔اس منصوبے کا نام ہم سب نے اکثر اپنے بجلی کے بلوں کی معرفت سن رکھا ہو گا ۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مظفر آباد آزاد کشمیر سے 42کلومیٹرنوسیری کے مقام پر ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت بنایا گیا پن بجلی کا ایک بڑا منصوبہ ہے ۔یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ یوں ہے کہ دریا کے پانی کو زیر زمین سرنگوں سے گزار کر ٹربائنز کے ذریعے اس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔اگرچہ پانی کے ذریعے چلنے کی وجہ سے سستی بجلی کایہ ایک موثر ذریعہ تو ہے لیکن اپنے مخصوص جغرافیائی محل وقوع اور پہاڑوں کے اندر پھیلی سرنگوں میں اکثر و بیشتر آنے والے تکنیکی مسائل کے سبب اسے بار ہا بندش کا سامنا رہتا ہے۔

جولائی 2007ء میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ نے 2018ءمیں باقاعدہ طور پر اپنی پیداوار کا آغاز کیا جو مجوزہ طور پر969میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تھا ۔ اس پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ 84 کروڑ ڈالرز لگایا گیا تھا جو بڑھ کر 5ارب ڈالرز تک پہنچ گیا تھا ۔ 2018 میں اپنی پیداوار کا آغاز کرنیوالے اس منصوبے کو جولائی 2022ءمیں اچانک اس وقت بند کرنا پڑا جب لگ بھگ ساڑھے تین کلومیٹر لمبی ٹیل ریس ٹنل میں دراڑ پڑ گئی ۔14 ماہ مسلسل مرمت کا کام جاری رہنے کے بعد بالآخر ستمبر 2023ءسے دوبارہ اس پروجیکٹ نے اپنے کام کا آغاز کیااور مارچ 2024 تک اپنی مکمل پیداواری صلاحیت یعنی 969 میگا واٹ پیداوار دوبارہ حاصل کر لی۔بدقسمتی سے یہ کامیابی زیادہ دن برقرار نہ رہ سکی اور چند دن بعدیعنی 16 اپریل 2024 کو ایک مرتبہ پھر فنی خرابی کے سبب اس پروجیکٹ کو اپنا کام اس وقت بند کرنا پڑا جب راک برسٹ ( چٹان پھٹنے )سے اسکی مین سرنگ کو شدید نقصان پہنچا۔ نتیجے میںنیشنل گرڈ کو ایک مرتبہ پھر سستی پن بجلی سے محروم ہو کر مہنگے تھرمل پاور پروجیکٹ پر منتقل ہو نا پڑا ۔ماہرین نے اس خرابی کے وقت تک اس پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 18ارب بجلی یونٹس لگایا تھا ۔جو یومیہ 98 لاکھ یونٹس بنتا تھا ۔ اس وقت پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت لگ بھگ 30 روپے فی یونٹ بنتی تھی ۔اگر اس حساب سے نیلم جہلم کی بندش سے نقصان کا یومیہ تخمینہ لگایا جائے تو وہ لگ بھگ 29 کروڑ روپے بنتا ہے جس کا سلسلہ 2024ءسے تاحال جاری ہے ۔

گزشتہ سال چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں 2024 ءسے بند نیلم جہلم پاور پلانٹ کی طویل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کےکنٹریکٹ کی خلاف ورزیوں کو قومی خزانے کے نقصان کاسبب قرار دیا گیا ۔ انکشاف کیا گیاکہ تعمیر سے پہلے کئے جانے والے ارضیاتی سروے میں اس علاقے کو زلزلوں کی زد میں آنے والا علاقہ قرار دیا گیا تھا ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے ایک اجلاس میں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ )محمد سعید کا یہ بیان قابل توجہ ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا 5 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مرمت کیلئےکم از کم مارچ 2028 تک مکمل طور پر بند رہے گا ۔ ( گویا دو سال گزشتہ اور دو سال اگلے ہمیں مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار کرنا ہو گا ) ۔

کمیٹی کے اسی اجلاس میں بریفنگ کے دوران بجلی کے بلوں پر نیلم جہلم سرچارج کے نام سے بجلی صارفین پر ڈالے گئے مسلسل غیر منصفانہ مالی بوجھ کا ذکر بھی کیا گیا ۔یاد رہے 4جنوری 2008ءسے عائد اس سرچارج کی بازگشت اکثر ایوانوں میں سنی بھی گئی لیکن ہر دفعہ یہ دہائی صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ۔ اگرچہ شروع میں اس سرچارج کی وصولی کا عندیہ سن 2015 ءتک دیا گیا لیکن بعد میں اس میں توسیع کر دی گئی ۔ ایک دفعہ پھر شور پڑا تو حکومت وقت نے فروری 2021ءکے بعد اسے ختم کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی لیکن مکمل طور پر اس پر عملدرآمد تاحال نہیں کیا جا سکا، کسی نہ کسی نام سے اسکی وصولی اب بھی جاری ہے ۔

اس پروجیکٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے سردست تمام عالمی اور ملکی رپورٹوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ آڈٹ رپورٹ کا بنظر غائر جائزہ لیں تو آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سال رواں کی اپنی آڈٹ رپورٹ میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کے بھاری مالی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کمپنی کو 29ارب 41کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔

رپورٹ میں باور کرایا گیا کہ پاور ہاؤس بند ہونے سے پروجیکٹ کو 99ارب 17کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے مزید وضاحت یہ کی گئی کہ اس نقصان کی بڑی وجہ ہیڈ ریس اور ٹیل ریس ٹنلز کا بار بار ٹوٹنا ہے جس کے سبب نیلم جہلم پاور کمپنی نہ صرف مالی سال 2022-23ء سے ہی مالی بدحالی کاشکار ہونا شروع ہو گئی بلکہ ٹیل ریس ٹنل ٹوٹنے سے جولائی 2022ءسے اگست 2023ءتک اس پروجیکٹ سے مکمل طور پر بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی ۔ابھی اس ٹنل کی بحالی کا کام شروع نہ ہوا تھا کہ کچھ ہی مدت بعد ہیڈ ریس ٹنل بھی کام کرنا چھوڑ گئی ۔چنانچہ ان دونوں ٹنلز کے بند ہونے کے بعد مئی 2024 سے پاور ہاؤس تاحال مکمل طور پر بند پڑا ہے ۔اس رپورٹ کے آخر میں آڈیٹر جنرل نے تحقیقات مکمل کرنے اور پاور ہاؤس کو بحال کرنے کی سفارش کی تھی ۔

16مئی 2024 کو وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مظفر آباد آزاد کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کی زبوں حالی کے تناظر میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آغاز کے بعد سے دوسری مرتبہ اس پروجیکٹ کی بندش ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے ۔ آئی پی او نے اس بندش کی وجہ اس پروجیکٹ کے ڈیزائن اور اسکی ناقص تعمیرات کو قرار دیا ہے بقول وزیر اعظم جہاں پر کنکریٹ کی فلنگ ہونی چاہئے تھی وہاں پر مٹی سے فلنگ کر دی گئی ۔پھر وزیر اعظم نے متعلقہ حکام سے سوال کیا کہ کیا اس معاملے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا گیا ؟ ۔ وزیر اعظم نے پھر خود ہی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے کہا گیا کہ " سر تھرڈ پارٹی آڈٹ رہنے دیںاس پر کافی وقت لگ جائیگا ۔ہمارے واپڈا میں کافی قابل لوگ ہیں ان سے آڈٹ کرا لیتے ہیں ۔ جس پر میں نے کہا گویا انہی لوگوں سے چھان بین کراؤں جن کیخلاف شکایت ہے ؟ "

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چار سال سے اس پروجیکٹ کی دو دفعہ بندش اور دو سال سے اس پر اپنی تشویش کی پیش رفت بارے وزیر اعظم ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کب کریں گے ؟

تازہ ترین