ٹرمپ انتظامیہ نے جبری مشقت کے قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے پر 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف لگا دیے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ نئے ٹیرف 24 جولائی یعنی آج سے نافذ العمل ہیں جو کہ فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لگائے گئے عارضی 10 فیصد ٹیرف کی جگہ لیں گے۔
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نئے ٹیرف لگا دیے ہیں اور اس اقدام کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن301 کے تحت امریکا ایسے ممالک جن میں جبری مشقت پر پابندی کے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور جن ممالک میں جبری مشقت پر پابندی کے قوانین بالکل نافذ نہیں ہیں، ان پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
جن ممالک کی اشیاء پر صرف 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے ان میں ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو شامل ہیں۔
ان ممالک کے علاوہ امریکا نے دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے لیکن متعدد اہم اشیاء کو اس ٹیرف سے استثنیٰ دیا گیا ہے، جن میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس اور قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کےٹیرف کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیئم اور تانبا شامل ہیں۔
علاوہ ازیں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات کو بھی نئے ٹیرف سے استثنیٰ حاصل ہے۔