• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اداکار وجے کی آخری فلم سے اپنے مناظر نکالنے پر اداکارہ رو پڑی

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

اپنی کوششوں کے ثمر کو سامنے آتے دیکھنا ہمیشہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن تامل اداکارہ آنندھی اجے کا یہ خواب ایک جذباتی موڑ پر ختم ہوا جب انہیں معلوم ہوا کہ وجے کی فلم ’جنا نائیگن‘ سے ان کے تمام مناظر کاٹ دیے گئے ہیں۔

سات ماہ کی لمبی تاخیر اور 23 جولائی کو آن لائن لیک ہونے کے بعد بالآخر یہ فلم سنیما گھروں کی زینت بنی۔ یہ وجے کی آخری فلم ہے، جسے انہوں نے سیاست میں قدم رکھنے اور تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے بنایا تھا۔

اداکارہ نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے اپنا دکھ بیان کیا۔ اس غیر متوقع صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے آنندھی کی ہچکی بندھ گئی، انھوں نے بتایا تقریباً ایک سال تک اس فلم کی شوٹنگ کی اور وہ بڑے پردے پر خود کو دیکھنے کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھیں۔

آنندھی نے کہا کہ میں نے کئی فلموں میں کام کیا ہے اور ان میں سے بہت سے مناظر کاٹ دیے جاتے ہیں۔ تاہم، مجھے کبھی اس کا دکھ یا افسوس نہیں ہوا۔ لیکن، مجھے اس بات کا برا لگ رہا ہے کہ جنا نائیگن میں میرے ادا کیے گئے تمام منظر ہی کاٹ دیے گئے۔

ویڈیو کے اختتام پر آنندھی کی آنکھوں میں آنسو تھے، انہوں نے کہا کہ میں اتنی خوشی سے تھیٹر گئی تھی کہ چلو، تھلاپتھی کے ساتھ میرا کوئی سین ہوگا، لیکن مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ اسے کاٹ دیا جائے گا، خود کو بہت بدقسمت محسوس کر رہی ہوں۔

ویڈیو وائرل ہوتے ہی مداحوں نے کمنٹس سیکشن کو ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے پیغامات سے بھر دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ میں واقعی محسوس کر سکتا ہوں کہ آپ پر کیا گزر رہی ہے۔ مضبوط رہیں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ بہت باصلاحیت اور ایک عمدہ انسان ہیں۔ مضبوط رہیں اور ہمت نہ ہاریں۔

ایک اور تبصرے میں لکھا تھا کہ آپ کو بہت جلد ایک بہترین مرکزی کردار ملے گا۔ ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے تحت ہوتی ہے۔ مثبت سوچیں۔

ایک تیسرے صارف نے بار بار ان کے مناظر کاٹے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ یہ کیا ہے؟ وہ خاص طور پر آپ کے مناظر کیوں حذف کر رہے ہیں؟ ایسا ہر بار کیوں ہو رہا ہے؟ ایک بار تو قابلِ قبول ہے لیکن بار بار نہیں۔ محترم ڈائریکٹرز، یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید